دیہی علاقوں کے منصوبے کیلئے آسٹریلیا سے معاہدہ

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020

ای میل

یہ پروگرام پاکستان، بنگلہ دیش، چین اور انڈونیشیا کا احاطہ کرے گا—فائل فوٹو: رائٹرز
یہ پروگرام پاکستان، بنگلہ دیش، چین اور انڈونیشیا کا احاطہ کرے گا—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: اقتصادی امور ڈویژن اور آسٹریلین سینٹر فار ایگریکلچر ریسرچ (اے سی آئی اے آر) نے دیہی علاقوں کی تبدیلی کے حوالے سے 12 لاکھ آسٹریلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردیے۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ پروگرام پاکستان، بنگلہ دیش، چین اور انڈونیشیا کا احاطہ کرے گا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ اقتصادی امور ڈویژن کے قائم مقام سیکریٹری احمد حنیف اورکزئی اور اے سی آئی اے آر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر اینڈریو کیمپ بیل نے اپنی اپنی حکومت کی جانب سے ایک ذیلی معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زراعت میں پہلی بار موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال

مذکورہ معاہدہ ’کامیاب اور جامع دیہی علاقہ جات کی تبدیلی کے محرکات کو سمجھنے اور پالیسی تجاویز اور تجربات کے اشتراک‘ کے بارے میں ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مذکورہ پروگرام کی مدت 3 سال ہے جو 2022 میں مکمل ہوگا جبکہ اس کا مقصد ’بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا اور پاکستان میں دیہی علاقوں کی تبدیلی کے محرکات، اثرات اور نوعیت کو سمجھنا ہے‘۔

واضح رہے کہ دیہی علاقوں کی تبدیلی ایسا عمل ہے جس کے ذریعے وقت کے ساتھ زرعی نظام خوراک فراہم کرنے سے تجارتی اور منڈیوں پر مبنی کاشت کاری میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں زراعت پسماندہ کیوں؟

دنیا کے کئی ممالک دیہی علاقوں کی تبدیلی کی مختلف رفتار اور نتائج کے ساتھ دیہی تبدیلی کے مختلف مراحل میں پہنچ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں اب بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ (43 فیصد) انڈونیشیا میں 46 فیصد، پاکستان میں کہیں زیادہ 61 فیصد اور بنگلہ دیش میں 65 فیصد دیہاتوں میں رہتا ہے جبکہ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کی اوسطاً شرح 58 فیصد ہے۔

تاہم بڑھتی ہوئی اربنائزیشن (شہری علاقوں کا پھیلاؤ)، زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے زمین، مزدوری اور دیگر وسائل پر دباؤ ڈالنے کا سبب ہے۔

مذکورہ بالا منصوبے میں چین کے دیہی تبدیلی کے ماڈل کا جائزہ لیا جائے گا اور انہی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے اس کی کامیابی کی نوعیت کو سمجھا اور اس سے سبق حاصل کیا جائے گا۔


یہ خبر 18 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔