عمر شریف کی بیٹی کی وفات، ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

عمر شریف کی بیٹی کا طبی پیچیدگیوں کے باعث پیر کی رات انتقال ہوگیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک
عمر شریف کی بیٹی کا طبی پیچیدگیوں کے باعث پیر کی رات انتقال ہوگیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایجنسی (ایچ او ٹی اے) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے ملک کے معروف کامیڈین عمر شریف کی بیٹی کے گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے پر ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کردی۔

خیال رہے کہ حرا شریف کا طبی پیچیدگیوں کے باعث پیر کی رات انتقال ہوگیا تھا۔

ان کے انتقال کے حوالے سے کی گئیں تحقیقات میں مزید انکشافات سامنے آئے کہ ایچ او ٹی اے کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر ممتاز کو کچھ ہفتوں قبل رائیونڈ روڈ پر بحریہ ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔

بعدازاں ٹیم نے انہیں فیکٹری ایریا پولیس اسٹیشن میں پہلے سے درج ایک کیسز میں گرفتار ظاہر کرنے کے لیے فیصل آباد پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمر شریف کی بیٹی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کرنیوالے ریکٹ کا شکار

ڈاکٹر فواد ممتاز کو غیر قانونی پیوندکاری کے دوران ایک غریب شخص کا گردہ نکالنے پر درج کیس میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ پولیس نے انہیں ’شخصی ضمانت‘ پر رہا کردیا تھا جس کے کچھ روز بعد ہی انہوں نے آزاد کشمیر میں عمر شریف کی بیٹی کے گردے کی پیوندکاری کی۔

جس پر ایچ او ٹی اے نے سٹی پولیس افسر (سی پی او) فیصل آباد کو خط لکھ کر ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا کہا تھا جنہوں نے ڈاکٹر کو پولیس کے چنگل سے نکالا تھا۔

تاہم سی پی او نے ممکنہ طور پر اہلکاروں کی ’پشت پناہی‘ کرتے ہوئے کارروائی میں تاخیر کی، عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے پر پولیس حکام کے حرکت نہ کرنے پر ایچ او ٹی اے نے یہ معاملہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) شعیب دستگیر کے سامنے اٹھایا۔

مزید پڑھیں: گردوں کی خرید و فروخت میں ملوث بین الاقوامی گروہ پکڑا گیا

ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایجنسی کے لیگل ڈائریکٹر نے آئی جی پی کو خط لکھ کر بتایا کہ اتھارٹی نے سی پی او فیصل آباد سے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی جنہوں نے ڈاکٹر فواد ممتاز کو رہا کیا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ’برائے مہربانی اس سلسلے میں قانونی کارروائی کریں تا کہ ڈاکٹر فواد کو جتنی جلد ممکن ہو گرفتار کیا جائے کیوں کہ وہ گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کےدیگر کیسز میں بھی ملوث ہیں‘۔

ایچ او ٹی اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ حیدر نے ڈان کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایچ او ٹی اے کی ٹیم نے ڈاکٹر فواد کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے فیصل آباد پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی نے ایف آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر کو عمر شریف کی بیٹی کے گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے پر ڈاکٹر فواد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کا ’مڈل مین‘ گرفتار

ایچ او ٹی اے کے خط میں لکھا تھا کہ ’متوفی حرا شریف کے گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے والے ڈاکٹر فواد ممتاز پہلے ہی غیر قانونی پیوندکاری کے متعدد کیسز میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف ایف آئی اے ملتان اور لاہور میں مقدمات بھی درج ہیں‘۔

ایچ او ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک صحافی کو بتایا کہ ڈاکٹر فواد نہ تو گردے کی پیوندکاری کرنے کی قابلیت کے حامل سرجن ہیں اور نہ ہی وہ اس مقصد کے تحت اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک پلاسٹک سرجن ہیں جبکہ گردے کی پیوندکاری کا عمل کوالیفائیڈ یورولوجسٹ کرتا ہے، جب ایچ او ٹی اے اور ایف آئی نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے تو ڈاکٹر فواد گرفتار سے بچنے کے لیے انڈرگراؤنڈ ہوگئے‘۔

اب تک کی تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر فواد حرا شریف کو گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں ایک نجی گھر میں لے گئے تھے۔


یہ خبر 20 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔