نئے 'چیئرمین ایف بی آر' کے لیے تلاش شروع

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

شبر زیدی غیر معینہ مدت تک کیلئے چھٹیوں پر ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز
شبر زیدی غیر معینہ مدت تک کیلئے چھٹیوں پر ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: ٹیکس ریونیو کے بڑے شاٹ فال کے باعث حکومت نے اصولی طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کا فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع سے ڈان کو یہ معلوم ہوا کہ ٹیکس گروپس سے 5 سینئر افسران اس اعلیٰ عہدے کے لیے دوڑ میں ہیں۔

اس حوالے سے ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی غیر معینہ مدت کے لیے طبی چھٹیوں پر ہیں۔

ایک طرف جہاں ایف بی آر میں اعلیٰ عہدے رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بورڈ میں اعلیٰ عہدوں پر افسران کے تقرر میں تاخیر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں غیریقینی صورتحال کی وجہ ہے جس سے روزانہ کی بنیادوں پر ریونیو کم ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں: شبر زیدی کے دوبارہ چھٹیوں پر جانے سے ایف بی آر غیر یقینی صورتحال کا شکار

وہیں دوسری جانب ایف بی آر کے نئے سربراہ کی تعیناتی پر غور کے لیے جو نام وزیراعظم سیکریٹریٹ میں گھوم رہے ہیں ان میں دو افسران ان لینڈ ریونیو سروسز (آئی آر ایس) اور 3 کسٹمز گروپ (سی جی) سے ہیں۔

اعلیٰ عہدے کے لیے آئی آر ایس سے طارق محمود پاشا جو اس وقت سیکریٹری کشمیر امور اور گلگت بلتستان ہیں ان کا نام زیرغور ہیں جبکہ قائم مقام چیئرمین اور رکن کسٹمز نوشین امجد ایک اور ممکنہ امیدوار ہیں۔

کسٹمز کی جانب سے ممکنہ امیدواروں میں ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس زاہد کھوکھر، ممبر کسٹمز پالیسی جاوید غنی اور ایڈیشنل سیکریٹری فنانس احمد مجتبیٰ میمن کا نام بھی زیر غور ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم سیکریٹری میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حکومت نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو (مالیات) کے لیے ہارون اختر کی تعیناتی کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے اور آئندہ کچھ روز میں اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے نئے آنے والے مشیر مالیات کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ خراب شہرت رکھنے والے تمام افسران کو قابل اور دیانتدار افسران سے تبدیل کریں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ہارون اختر کے تقرر کے بعد آئی آر ایس اور کسٹمز گروپ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا امکان ہے، ساتھ ہی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 'وزیراعظم ایف بی آر میں کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر ہارون اختر نے وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کو بریفنگ دی تھی اور پالیسیوں کی ناکامی کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی چونکہ یہ غذائی افراط زر میں اضافے کی اہم وجہ ہے۔

یاد رہے کہ ہارون اختر، نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر مالیات بھی رہ چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہارون اختر کو مکمل اجازت دی ہے کہ وہ عالمی بین کے زیر تعاون ٹیکس اصلاحات کے اس منصوبے کو آگے بڑھائیں جس پر متوقع ہدف کے گزرنے کے باوجود کام شروع نہیں ہوا۔

اسی طرح نئے مشیر کو آئی ایم ایف پروگرام کی تعمیل کے حصے کے طور پر زیادہ سے زیادہ ریونیو بڑھانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام کی تنظیم نو کا فیصلہ

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے منظور نظر چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی طبی بنیادوں پر غیر معینہ مدت تک چھٹیوں پر چلے گئے تھے۔

شبر زیدی نے طبعیت خراب ہونے کے باعث 2 ہفتوں کی چھٹیوں کے بعد 21 جنوری کو ایک مرتبہ پھر دفتر سنبھالا تھا، تاہم ان کی غیر موجودگی میں اِن لینڈ ریونیو سروس کے ایک 22 گریڈ کے افسر نے بطور قائم مقام چیئرمین ایف بی آر ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی تھیں۔

اس وقت جب چیئرمین ایف بی آر سے رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے ڈان کو بتایا تھا کہ وہ کراچی میں تھے، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ’وہ چھٹیوں پر تھے اور زیر علاج تھے‘، مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ وہ غیر معینہ مدت تک چھٹیوں پر ہیں اور یہ کب تک جاری رہیں گی یہ ڈاکٹر کے مشورے پر منحصر ہے'۔