’ایران کے بغیر افغان تنازع کا کوئی حل ممکن نہیں‘

اپ ڈیٹ 25 فروری 2020

ای میل

امریکی دانشور کے مطابق امریکی صدر، نریندر مودی سے زیادہ وزیراعظم عمران خان سے مطابقت رکھتے ہیں — تصویر: ٹوئٹر
امریکی دانشور کے مطابق امریکی صدر، نریندر مودی سے زیادہ وزیراعظم عمران خان سے مطابقت رکھتے ہیں — تصویر: ٹوئٹر

اسلام آباد: خارجہ پالیسی کے ماہر امریکی پروفیسر ولی نصر نے پاکستانی پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ افغان مسئلے پر ایران کے ساتھ قریبی تعاون کریں اور کہا کہ ایران کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔

جانز ہوپکنز اسکول برائے ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے ڈین نے قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں امریکا-پاکستان تعلقات، امریکی صدر کا دورہ بھارت اور چین، ایران اور افغانستان کے بارے میں امریکی نقطہ نظر پر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان تنازع اور افغانستان میں امن کے معاملے پر واشنگٹن سے زیادہ قریب ہے جس سے ’پاکستان کے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعلقات کے علاوہ نئے رشتے کے دروازے کھلے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، افغان طالبان کا 29 فروری کو امن معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان

اس موقع پر سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف تھا کہ امریکا کو طالبان سے بات چیت کرنی چاہیے جو بالآخر متوقع امن معاہدے سے ثابت ہوگیا ہے اور اب پاکستان کے پاس اپنی خارجہ پالیسی کے مفادات حاصل کرنے کے لیے مزید ’اسٹریٹجک گنجائش‘ موجود ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی کشمیر اور بھارت میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے اندر دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ افغان عمل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان پر انحصار اور خلیج میں ایران اور اس کے ہمسایوں کے درمیان صورتحال بالخصوص سی پیک، مسئلہ کشمیر اور ایران، واشنگٹن اور افغانستان کے ساتھ تعلقات نے پاکستان کو خطے میں اپنے خارجہ پالیسی کے مفادات محفوظ کرنے، فروغ دینے اور ان کی پیروی جاری رکھنے کے لیے جیو پولیٹکل موقع فراہم کیا ہے۔

اس ضمن میں سینیٹر شیری رحمٰن نے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی دائرہ کار سے ماورا پائیدار اور حقیقی معاشی روابط کی ضرورت پر زور دیا کیوں کہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان کے لیے پاکستان کے سہولت کار بننے کا ’وقت‘ بہت جلد فراموش ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ساتھ معاہدے کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہیں، نائب سربراہ طالبان

سینیٹر سراج الحق نے دہائیوں سے جاری تنازع کے باعث ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی نسلیں متاثر ہوں گی جیسا کے ویتنام اور کمبوڈیا میں ہوا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے میں امریکی جنگ سے ہونے والے نقصانات کے لیے تلافی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے ایران اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے درمیان مصالحت کی امید ظاہر کی جبکہ دیگر اراکین نے پروفیسر نصر کی اس بات سے اتفاق کیا کہ ’امریکی صدر نہ تو نظریاتی ہیں اور نہ روایتی اور وہ وزیراعظم نریندر مودی سے زیادہ وزیراعظم عمران خان سے مطابقت رکھتے ہیں‘۔

پروفیسر ولی نصر کا کہنا تھا کہ مودی کا اپنے بقیہ دورِ حکومت کا مقامی ایجنڈا، نہرو کی روایت کو مٹانا اور بھارت کو نئی شکل دینا ہے کیوں کہ ان کا ایک نظریاتی تصور ہے اور انہوں نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تصور اور اصطلاح کو سیاسی طور پر ختم‘ کرنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہا تھا کیوں کہ ان کا نقطہ نظر مسلم دنیا میں نئی جنگ کے خلاف اور صرف معیشت کے بارے میں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان رواں ماہ کے اختتام تک امریکا سے معاہدہ کیلئے پرامید

اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی، نزہت صادق، سیمی ایزدی، شیری رحمٰن، انوارالحق کاکڑ، سراج الحق، ستارہ ایاز اور ڈاکٹر شہزاد وسیم کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے سیکریٹری رابعہ انور نے شرکت کی۔


یہ خبر 25 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔