کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی درآمدکنندگان کو خام مال کے حصول میں مشکلات

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

صنعتکار چین سے خام مال کی ترسیل میں تاخیر یا معطلی کے پیش نظر دیگر ممالک سے نئے خام مال حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز
صنعتکار چین سے خام مال کی ترسیل میں تاخیر یا معطلی کے پیش نظر دیگر ممالک سے نئے خام مال حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے سبب درآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے اور کاروبار و صنعتکار اسی وائرس کے خدشات کے سبب درآمد کے لیے تازہ آرڈر نہیں دے رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وجہ سے چینی بندرگاہوں پر اشیا کی کلیئرنس متاثر ہوئی ہے جبکہ مقامی بندرگاہوں پر کسی قسم کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

تاہم صنعتکار چین سے خام مال کی ترسیل میں تاخیر یا معطلی کے پیش نظر دیگر ممالک سے خام مال حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: درآمدی خام مال پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز جلد ختم ہونے کا امکان

اس کے علاوہ غیر ملکی خریداروں نے بھی مقامی برآمدکنندگان کو خام مال کے دیگر ذرائع کی تلاش کی نشاندہی کا کہنا شروع کردیا ہے تاکہ برآمد کی ترسیل میں کوئی تاخیر نہ آسکے۔

دوسری جانب سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری پیٹرن زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ 'چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے متعدد مسائل سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے ڈائیز اور کیمیکلز سمیت دیگر اشیا کی کلیئرنس میں مسائل پیش آرہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے 3 متبادل ممالک ہیں تاہم ڈائیز اور کیمیکلز کی بھارت سے درآمدات پر پابندی عائد ہے جبکہ کورونا وائرس جنوبی کوریا میں بھی پھیل چکا ہے اور تائیوان ہمیں بہت زیادہ قیمت بتارہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: 'دواساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کےخلاف حکم امتناع حاصل کرلیا'

واضح رہے کہ پاکستان کی چین سے کُل درآمدات 12 ارب ڈالر ہے جس میں سے زیادہ تر حصہ ڈائیز اور کیمیکلز پر منحصر ہوتا ہے جو ملک کے لیے سب سے زیادہ غیر ملکی زر مبادلہ کمانے والے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے اہم خام مال ہے۔

زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ خام مال کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ چینی بندرگاہوں پر یہ مال پھنسا ہوا ہے جبکہ متبادل سپلائرز نے یا تو سپلائی بند کردی ہے یا پھر 30 سے 35 فیصد زیادہ قیمت بتارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اراکین شکایات کر رہے ہیں کہ خام مال کی کمی کی وجہ سے پیداوار بحال رکھنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ مقامی مارکیٹوں میں قیمتیں 50 سے 100 فیصد تک بڑھ گئی ہیں'۔