نامور پشتو گلوکارہ مہہ جبیں قزلباش انتقال کر گئیں

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

گلوکارہ دل کے عارضے میں مبتلا تھیں—اسکرین شاٹ یوٹیوب
گلوکارہ دل کے عارضے میں مبتلا تھیں—اسکرین شاٹ یوٹیوب

پشتو، اردو، ہندکو، پنجابی، فارسی، سرائیکی، ترکش اور سندھی گانوں کی معروف گلوکارہ ثریہ خانم الیاس المعروف مہہ جبیں قزلباش کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 72 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

مہہ جبیں قزلباش کو گزشتہ ماہ یکم جنوری کو دل کے عارضے کے سبب خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

مہہ جبیں قزلباش تقریبا گزشتہ 2 ماہ سے ہسپتال میں داخل تھیں اور زندگی کے آخری دنوں میں انہیں وینٹی لیٹر پر بھی منتقل کیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹرز اور مہہ جبیں قزلباش کے اہل خانہ نے معروف گلوکارہ کی موت کی تصدیق کی۔

مہہ جبیں قزلباش نے نوجوانی میں ریڈیو سے گلوکاری کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے پہلا گانا پشتو لوک گیت گایا تھا جو انتہائی مقبول ہوا۔

زمانہ طالب علمی میں ہی طلبہ اور اساتذہ مہہ جبیں قزلباش کی آواز کے دیوانے بن گئے تھے اور وہ اسکول میں پڑھائی کے دوران بھی گیت گاتی دکھائی دیتی تھیں۔

عوام میں مقبولیت حاصل کرنے اور ریڈیو کی دنیا میں اپنا مقام بنانے کے بعد مہہ جبیں قزلباش نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر بھی گلوکاری کی اور جلد ہی پورے ملک میں مقبول ہوگئیں۔

مہہ جبیں قزلباش نے اگرچہ زیادہ تر پشتو گیت گائے تاہم انہوں نے قومی زبان، اردو سمیت پنجابی، ہندکو، فارسی اور سندھی میں بھی گیت گائے۔

مہہ جبیں قزلباش نے موسیقی کو نصف صدی تک کا وقت دیا اور اس دوران وہ ملک کے چاروں صوبوں میں پرفارمنس کے لیے گئیں۔

مہہ جبیں قزلباش کو شاندار گیت بنانے پر متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا اور انہوں نے اداکاری میں بھی قسمت آزمائی کی۔

گلوکارہ نے سوگواروں میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور دو بھائی چھوڑے ہیں۔

مہہ جبیں قزلباش نے 1980 میں پشتو اداکار امان اللہ اورکزئی المعروف ایمل خان سے شادی کی تھی۔