فروری کے دوران ملکی برآمدات میں 13.6 فیصد کا اضافہ

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2020

ای میل

برآمدات میں کمی گزشتہ برس دسمبر سے شروع ہوئی تھی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
برآمدات میں کمی گزشتہ برس دسمبر سے شروع ہوئی تھی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: پاکستان کی مرچنڈائیز برآمدات میں رواں سال فروری کے دوران کمی کا رجحان ختم ہو کر دوہرے ہندسوں میں نمو دیکھ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تجارتی تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ نمو کی وجہ چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر وہاں کے آرڈرز میں آنے والی عالمی تبدیلی ہے۔

محکمہ تجارت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں کمی گزشتہ برس دسمبر سے شروع ہوئی تھی جب یہ 3.8 فیصد تک کم ہوگئی تھی جبکہ جنوری میں بھی کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تاہم فروری میں 13.6 فیصد کی نمو دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی برآمدات میں 2 ماہ سے مسلسل کمی

عموماً پاکستان کا ادارہ شماریات ہر ماہ کے پہلے ہفتے کے اختتام پر سرکاری اعداد و شمار جاری کرتا ہے تاہم وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے پیر کو کسٹم کے عبوری اعداد و شمار فراہم کردیے۔

فروری میں برآمداتی رقم گزشتہ برس کے اسی مہینے کے ایک ارب 88 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 13 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی یعنی اس میں 13.61 فیصد اضافہ ہوا، روپے کے اعتبار سے برآمداتی عمل میں فروری میں 26.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2019 اور رواں برس فروری کے دوران برآمداتی رقم گزشتہ برس کے 15 ارب 9 کروڑ ڈالر کے مقابلے 3.62 فیصد اضافے کے بعد 15 ارب 64 کروڑ ڈالر پہنچ گئی۔

مزید پڑھیں: برآمدات میں سست روی کے باوجود تجارتی خسارہ 5 ارب ڈالر کم کرنے کا ہدف

اس حوالے سے سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث یورپ اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک چین کو مختلف آرڈرز بالخصوص ٹیکسٹائل اور کپڑوں کے آرڈرز نہیں دے رہے، آرڈرز میں یہ بدلاؤ پاکستانی برآمدات میں اضافے کی وجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروری میں بہت زیادہ آرڈرز موصول ہوئے باقی یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں بھی آرڈرز دیے جائیں گے یا نہیں۔

خیال رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 2019 کے 24 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں برآمدات 26 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان برآمدات کے ہدف سے 5 ارب ڈالر دور، ادارہ شماریات

اس سلسلے میں حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے برآمداتی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال اور نیم مکمل اشیا کو کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنیٰ کر کے ان کی لاگت میں کمی کردی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں درآمدات گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 36 ارب 56 کروڑ ڈالر سے 14.39 فیصد کم ہو کر 31 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوگئی تھی۔

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ درآمدات میں ہر گزرتے مہینے کے ساتھ کمی ہورہی ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران درآمدات 4 ارب ڈالر فی ماہ کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔ ۔