حکومت نے نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانیہ کو خط لکھ دیا

ای میل

نواز شریف گزشتہ برس نومبر میں برطانیہ گئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
نواز شریف گزشتہ برس نومبر میں برطانیہ گئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو خط لکھنے کی تصدیق کردی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘خط لکھ دیا گیا ہے اور تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی’۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف گزشتہ برس نومبر میں عدالت کی اجازت کے بعد علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے تھےاس سے قبل وہ احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں دی گئی سزا پر لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے اس حوالے سے رابطہ کیا اور پنجاب حکومت کی سفارش اور مشاورت کے بعد برطانیہ کو باقاعدہ خط بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف واپس نہیں آئے تو اشتہاری قرار دیے جائیں گے، فردوس عاشق اعوان

ان کا کہنا تھا کہ خط میں کہا گیا کہ ‘نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہٰذا نواز شریف کو وطن واپس بھیجا جائے تاکہ وہ باقی سزا مکمل کر سکیں’۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ‘حکومت نے موجودہ صورتحال سے بھی برطانوی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے’۔

بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافیوں کی جانب سے نواز شریف کی واپسی کے لیے حکومتی خط کے حوالے سے ایک سوال پر تصدیق کرتے ہوئے مختصراً جواب دیا کہ ‘جی، تفصیلات تو بعد میں بتائیں گے لیکن خط لکھا ہے’۔

وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ سعودی وزیر دفاع سے بات چیت میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس حوالے سے آگے کس طرح بڑھنا ہے اس پر بات ہوئی۔

نواز شریف کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش انہیں قتل کرنے کے مترادف ہے، شہباز شریف

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت حکومت کو اس قسم کا خط لکھنے کا اختیار حاصل نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیان میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی جلد بازی اس کے مجرمانہ ارادوں کو عیاں کررہی ہے‘۔

اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو 8 ہفتوں کے لیے ضمانت دی اور بیرونِ ملک قیام میں توسیع حاصل کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، ’اب ہم حکومت کے لیے گئے ایکشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں‘۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش انہیں قتل کرنے کے مترادف ہے اور حکومت عوامی تنقید سے بچنے کے لیے میرے بھائی کی صحت سے کھیل رہی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان ذاتی دشمنی اور سیاسی انتقام پر عمل پیرا ہیں، نواز شریف تمام قانونی ضروریات پوری کرنے کے بعد علاج کے لیے بیرونِ ملک گئے تھے‘۔

میڈیکل بورڈ کی تجاویز کے تحت خط لکھ دیا گیا، فردوس عاشق اعوان

قبل ازیں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'وزارت خارجہ نے ان کی پاکستان واپسی کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے اور نواز شریف اور ان کے سہولت کار اپوزیشن لیڈر سے گزارش کی گئی ہے جو قیدی صاحب بیمار ہیں پردیس سے دیس تشریف لے آئیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ چِٹھی پردیسی کو دیس میں لے کر آنے کے روانہ کردی گئی ہے، اس چِٹھی کے روانہ ہوتے ہی لندن سے آہ و بکا شروع ہوگئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لمبے عرصے کے لیے گئے تھے 8 ہفتوں کے لیے نہیں گئے تھے'۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'قانون نے 8ہفتوں کی اجازت دی تھی اور قانون نے علاج کے لیے ایک راستہ دیا تھا، آپ نے اپنی سہولت اور رعایت کے مطابق ہمیشہ قانون کو استعمال کیا ہے، رپورٹ مانگی گئی کہ کس ہسپتال میں ہیں، ایک شخص 105 دن باہر رہ کر بھی اپنے ملک کو اپنی صحت کی بہتری کی رپورٹ نہیں بھیجتا اور کوئی اطلاع نہیں دیتا اور علاج معالجہ نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اس اجازت کا غلط استعمال کیا'۔

مزید پڑھیں:حکومت پنجاب نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی

نواز شریف کے علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'میڈیکل بورڈ آپ سے رپورٹ مانگتا ہے آپ سرٹیفکیٹ بھیجتے ہیں، سوشل میڈیا میں فوٹو آئی تھی تو اسی وقت بتادیا تھا کہ آپ جس مقصد کے لیے گئے تھے وہ پورا نہیں ہوا'۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے حوصلے بلند رہیں اور پاکستان واپس آئیں، آپ حکومت کو لعن طعن نہ کریں، حکومت کو بانڈ نہیں دیا بلکہ عدالت کو دیا اس کی پاسداری کریں، قانونی تقاضے ہم پورے کرنے جارہے ہیں جو ہمارا فرض ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو آپ گمراہ کررہے ہیں، انہیں لاوارث اور تنہا کررہے ہیں، جس بورڈ نے آپ کو باہر جانے کی اجازت دی تھی اسی بورڈ نے کہا ہے کہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے آپ کی صحت بہتر ہے اور انہی کی تجاویز کے تحت وفاقی حکومت نے چٹھی لکھ دی ہے اس کا جواب دیں، چٹھی برطانیہ کی حکومت کو بھیج دی گئی ہے'۔

خیال رہے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ ماہ پریس بریفنگ کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب قانونی طور پر مفرور ہیں اور واپس نہیں آئے تو اشتہاری قرار دیے جائیں گے۔

اس سے قبل پنجاب کی کابینہ نے سابق وزیراعظم کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انہیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مزید پڑھیں:'نواز شریف کو علاج کے لیے امریکا جانا چاہیے'

فردوس عاشق اعوان نے پنجاب کابینہ کے فیصلے کے حوالے سے کہا تھا کہ ‘پنجاب میں بھی ایک اجلاس ہوا جہاں ایک بیمار سیاسی قیدی جو پاکستان سے باہر ہیں، بار بار رپورٹس مانگنے کے باوجود وہ سرٹیفکیٹس جمع کراتے رہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہیں میڈیکل رپورٹ اور میڈیکل سرٹیفکیٹس میں فرق سمجھ نہیں آرہا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو ریفر کیا تھا اور ہدایات دی تھیں کہ وہ ان کی ضمانت میں توسیع کے حوالے سے ہدایات دیں یا آگاہ کریں کہ ان کی تازہ صورت کیا ہے’۔

نواز شریف کی علاج کے لیے برطانیہ روانگی

سابق وزیراعظم گزشتہ برس نومبر کے اواخر میں اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لیے لندن پہنچے تھے۔

انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔

ماہر امراض خون نے نواز شریف کو ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) نامی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص کی تھی جو خون کے خلیات میں خرابی کی علامت ہے۔

بعدازاں نواز شریف کے علاج کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے بتایا تھا کہ ان کے کچھ طبی ٹیسٹس اور علاج بیرونِ ملک میں ہی ممکن ہیں۔

جس پر العزیزیہ ریفرنس کیس میں قید کی سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بیرونِ ملک روانگی کی اجازت کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جہاں لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ان کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد اسلام آباد کورٹ نے ابتدائی طور پر العزیزیہ ریفرنس میں ان کو 3 دن کی ضمانت دی تھی، بعدازاں درخواست پر مزید سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی صحت کیلئے پلیٹلیٹس کا بہتر ہوناضروری ہے، حسین نواز

8 نومبر کو شہباز شریف وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز جمع کروانے تھے۔

تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے لیے 7 ارب روپے کے انڈیمیٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔

جس کے بعد ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں تحریری طور پر اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے سفر کی اجازت ملنے پر ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے جس پر عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی.

چنانچہ وزارت داخلہ سے 18 نومبر کو بیرون ملک سفر کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد 19 نومبر کو قائد مسلم لیگ (ن) خصوصی طور پر بلائی گئی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن پہنچ گئے تھے۔