کراچی سرکلر ریلوے 6 ماہ میں بحال کی جائے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2020

ای میل

عدالت نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا حکم دیا—فائل فوٹو: ہیرالڈ
عدالت نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا حکم دیا—فائل فوٹو: ہیرالڈ

کراچی: سپریم کورٹ نے پاکستان ریلویز کو 6 ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری فنانس کو کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ریلویز کو فنڈز کے اجرا میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ پاکستان ریلوے تقریباً 6 ارب روپے کی لاگت سے مقررہ وقت میں کے سی آر کو بحال کرے گی۔

اس تمام معاملے پر عدالت عظمیٰ کے بینچ نے 6 مارچ کو سماعت کی تھی جس کے بعد اب اس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے کا خواب اور محکمہ ریلوے کا نکما پن

فیصلے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، سیکریٹری ریلوے، سندھ کے چیف سیکریٹری اور دیگر وفاقی اور صوبائی حکام نے پریزینٹیشن دی تھی کہ آیا کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ اسی حالت میں بحال ہوسکتا ہے جس طرح یہ بند ہوا تھا جبکہ دوسرا آپشن یہ تھا کہ کے سی آر کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں نئے اور جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ شامل کیا جائے۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ بالآخر یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پہلا آپشن بہترین ہے جس میں سیکریٹری پاکستان ریلویز نے یہ یقین دہانی کروائی کہ کے سی آر عدالت کی جانب سے اپنے 20 فروری 2020 کے حکم میں مقرر کی گئی مدت، جو 6 ماہ ہے، اسی عرصے میں اسی حالت میں بحال ہوگا جیسے یہ بند ہوا تھا۔

تاہم فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان ریلوے سی پیک کے ذریعے کے سی آر کو جدید کرنے کے منصوبے پر غور و خوص جاری رکھ سکتا ہے اور اس طرح کے اپ گریڈ کی تصدیق پر پہلے سے فعال کے سی آر کو روکے بغیر ریلوے کے ذریعے ہی کام کیا جائے گا۔

عدالت میں اٹارنی جنرل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کے سی آر کی بحالی میں کسی محکمے کی جانب سے رکاوٹ یا تاخیر نہ برتی جائے۔

علاوہ ازیں سیکریٹری ریلوے کا کہنا تھا کہ وہاں تقریباً 24 لیول کراسنگ ہوں گی، جو سڑک کے ٹریفک کے لیے سنگین پریشانی کا باعث بنیں گی اور سندھ حکومت ریلوے کے ساتھ مشاورت سے مسئلے کو حل کرے گی اور سڑک کے ٹریفک کی روانی کے لیے انڈرپاسز اور بالائی گزرگاہوں کو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنائے گی۔

اس کے علاوہ عدالت میں چیف سیکریٹری اور صوبائی حکومت کے دیگر حکام کی جانب سے واضح طور پر یہ بیان دیا گیا تھا کہ سندھ حکومت کے سی آر کی بحالی میں ریلوے کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرے گی۔

بینچ کی جانب سے سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ لیول کراسنگ کی سطح پر انڈر پاسز اور بالائی گزرگاہوں کا ضروری انفرا اسٹرکچر فوری طور پر بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سڑک کے ٹریفک کی وجہ سے کے سی آر کا آپریشن میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔

مذکورہ بینچ کی جانب سے ریلوی سیکریٹری اور چیف سیکریٹری سندھ کو کہا گیا کہ وہ کے سی آر کی بحالی سے اور اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹس 26 مارچ کو پیش کریں۔

ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکریٹری ریلوے، صوبائی چیف سیکریٹری، کمشنر کراچی، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آئندہ سماعت پر اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

عمارت سے متعلق کیس میں اختلافی نوٹ

6 مارچ کو ہونے والی سماعت میں بینچ کی جانب سے گلشن اقبال میں امیوزمنٹ پارک سے متصل زیر تعمیر عمارت کو منہدم کرنے کے اپنے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے راشد منہاس روڈ پر واقع 2 ایکڑ پلاٹ کی لیز غیرقانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ رہائشی و تجارتی کثیر المنزلہ رائل عمارت کو منہدم کرے۔

تاہم جسٹس سجاد علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا اور اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے ریگولرائزیشن یعنی قانونی کرنے کی ضرورت ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے نظرثانی درخواست پر ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نے کہا کہ وہ ریونیو کو پہنچنے والے نقصان کی ادائیگی کے لیے تیار ہے جبکہ اسی زیر تعمیر عمارت کے الاٹیز کی ایک اور درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ فلیٹس کی بکنگ کے عوض ایک بھاری رقم ادا کرچکے ہیں لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور بلڈر کو معاوضے کی ادائیگی کی ہدایت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی کو ہٹانے کا حکم

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسی صورتحال میں جب لیزدار (مالک) حکومت سندھ کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے آگے آیا ہے تو ایسے میں منصوبے کو منہدم کرنا خاص طور پر جہاں 400 سے زائد فلیٹ الاٹیز ہوں میری رائے میں جائز نہیں ہوسکتا۔

ساتھ ہی اختلافی نوٹ میں یہ لکھا گیا کہ دوسرا اہم پہلو سیکڑوں الاٹیز ہیں جو قابل قدر غور کے بعد حامل خریدار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے مستعدی کے بعد پلاٹ بک کروائے تھے کیونکہ وہاں لیزدار کے حق میں لیز تھی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے تعمیرات جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری اجازت دی گئی تھیں۔

انہوں نے لکھا کہ لہذٰا سندھ حکومت اور لیزدار کے درمیان کچھ پوشیدہ معاہدے کی سزا انہیں (الاٹیز) کو نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے بحریہ ٹاؤن کراچی اور گرینڈ حیات ٹاور اسلام آباد کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بھی اسی طرح کے ہیں اور منہدم کرنے کے بجائے ریگولرائزیشن کی ضرورت ہے۔


یہ خبر 13 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی