کورونا وائرس: ڈیرہ غازی خان میں 780 مشتبہ مریضوں کی موجودگی کا انکشاف

17 مارچ 2020

ای میل

ان 780 مشتبہ مریضوں کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے — فوٹو: رائٹرز
ان 780 مشتبہ مریضوں کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے — فوٹو: رائٹرز

لاہور: صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ ڈیرہ غازی خان کی یونیورسٹی میں 780 مشتبہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور ان میں سے اکثر میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

پنجاب میں تازہ صورتحال کے بعد ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: لاہور میں کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ مریض جاں بحق

انہوں نے کہا کہ مشتبہ مریض (جو تمام ایران سے آنے والے زائرین ہیں) جن میں خواتین بھی شامل ہیں، دراصل تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے اور ان سب کو نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایت ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ان سب کو 2 روز قبل ڈیرہ غازی خان منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں قرنطینہ کی سہولت فراہم کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں انتباہ جاری کردیا گیا ہے جبکہ مریضوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے محکمہ صحت کی متعدد ٹیمیں روانہ ہو چکی ہیں۔

حکومتی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ایرانی حکام نے وائرس سے متاثرہ ان تمام مشتبہ مریضوں کو ایک ہی جگہ رکھا جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے ان کے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کورونا وائرس سے 6 افراد متاثر، ملک میں کیسز کی تعداد 193 ہوگئی

انہوں نے کچھ مریضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی علامات انتہائی واضح ہونے کے باوجود ایران میں اپنے قیام کے دوران یہ لوگ مصافحہ کرتے رہے، ایک دوسرے سے گلے ملے اور حتیٰ کہ اپنے تولیے اور باورچی خانے کی اشیا کا بھی تبادلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ 780 مشتبہ مریض پنجاب کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں، محکمہ صحت کے حکام نے ان میں سے 50 افراد کے نمونے لیے ہیں اور انہیں تجزیے کے لیے اسلام آباد کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے ان مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اکثر کے ٹیسٹ مثبت آنے کے قوی امکانات ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: کراچی میں بچت بازاروں پر پابندی

عہدیدار نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں دیگر کے نمونے بیچز کی شکل میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ بھیجیں گی اور مرض کی جانچ کے عمل کو 24 گھنٹے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

ڈیرہ غازی خان

ایران سے آنے والے 5 زائرین کو جنوبی پنجاب کے شہر سے 20 کلومیٹر دور واقع کورونا کے مریضوں کے لیے قائم سہولت میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے کمشنر نسیم صادق نے کہا کہ مشتبہ مریضوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، قرنطینہ کیے گئے زائرین مختلف دنوں میں کم از کم 3 ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

ملتان

دوسری جانب ملتان کے ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی ہدایات پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔

نیو ملتان کالونی میں منعقدہ ولیمہ کی تقریب پر دولہا کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ کیٹرنگ سروس کے مالک کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کو 'چینی وائرس' کہنے پر ٹرمپ کو تنقید کا سامنا

کورونا پر ضلعی فوکل پرسن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان نے کہا کہ شادی کی تقریبات صرف گھر کے احاطے میں منعقد کرنے کی اجازت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع کے تمام 128 شادی ہال بند کرا دیے گئے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جہاں لوگ مریضوں کے حوالے سے فون نمبر 0614500963 پر انتظامیہ کو اطلاع فراہم کر سکتے ہیں۔


یہ خبر 17مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.