کورونا پیار ہے اور ڈیڈلی کورونا کے نام سے بھارتی فلمیں بنیں گی؟

اپ ڈیٹ 18 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس کی وجہ سے چین اور بھارت سمیت دنیا بھر میں سینما بند کردیے گئےہیں—فوٹو: زنوا
کورونا وائرس کی وجہ سے چین اور بھارت سمیت دنیا بھر میں سینما بند کردیے گئےہیں—فوٹو: زنوا

دنیا کے تقریباً 160 سے زائد ممالک کے 2 لاکھ افراد کو متاثر کرنے اور تقریباً 8 ہزار انسانی جانیں ضائع کرنے والی عالمی وبا کورونا وائرس سے ایک طرف جہاں فلموں کی نمائش ملتوی کی جا رہی ہے، وہیں بھارتی فلم سازوں نے اس بیماری پر فلمیں بنانے کی تیاری کرلی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں بھارت میں سینما گھروں کو بند کرکے فلموں اور ڈراموں کی شوٹنگ ملتوی کردی گئی ہے، وہیں دنیا بھر میں بھی فلموں کی نمائش کو روک کر سینما ہالز کو بند کردیا گیا ہے۔

موضی وبا نے جہاں دنیا بھر میں خوف کے سائے پھیلا رکھے ہیں وہیں اس وبا پر بھارتی فلم سازوں نے فلمیں بنانے کی تیاریاں بھی کرلیں۔

خبریں ہیں کہ بھارت کی دو بڑی فلم پروڈکشن کمپنیوں نے کورونا وائرس پر فلمیں بنانے کے لیے 2 ٹائیٹل کو رجسٹرڈ کرواکر کاپی رائٹس حقوق حاصل کرلیے۔

جی ہاں، عرب اخبار گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بھارتی اخباروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خبریں ہیں کہ بولی وڈ فلمیں بنانے والے پروڈکشن ہاؤس ایروس انٹرنیشنل اور انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز نے کورونا وائرس پر فلمیں بنانے کے لیے دو ناموں کی رجسٹریشن کرالی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایراس انٹرنیشنل نے کورونا پیار ہے کے ٹائٹل کی رجسٹریشن کرالی ہے اور جلد ہی پروڈکشن کمپنی اس موضوع پر فلم بنائے گی، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ کب تک اس نام سے فلم سامنے آ سکے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا پیار ہے کے ٹائٹل کی رجسٹریشن کرانے والی پروڈکشن کمپنی اس وقت فلم کی تھیم اور اس کی کہانی لکھنے کے حوالے سے غور و فکر میں مصروف ہے اور کہانی کی تھیم سوچنے کے بعد جلد ہی اس کی کہانی لکھ کر ممکنہ طور پر شوٹنگ کا آغاز کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: بھارت نے سنیما، شاپنگ مال، میوزیم و تاریخی مقامات بند کردیے

مذکورہ فلم میں کون اداکار ہوں گے اور اس کی ہدایات کون دے گا، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، تاہم خبریں ہیں کہ فلم میں ایک اچھا سماجی پیغام دیا جائے گا اور لوگوں میں کورونا جیسی کسی بھی بیماری یا وبا سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوسری جانب انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز نے بھی کورونا سے متعلق فلم بنانے کے ایک ٹائیٹل کو رجسٹرڈ کرواکر اس کے کاپی رائٹس حاصل کرلیے۔

رپورٹ کے مطابق پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے ڈیڈلی کورونا کے نام کو رجسٹرڈ کرواکے اس کے کاپی رائٹس حاصل کرلیے ہیں اور ممکنہ طور پر اسی نام سے جلد ہی فلم بنانے کا آغاز کردیا جائے گا، تاہم اس فلم پر کب تک کام شروع ہو سکے گا اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

دوسری جانب کورونا پیار ہے اور ڈیڈلی کورونا جیسے ٹائٹل کو رجسٹرڈ کرواکے کورونا کے موضوع پر فلمیں بنانے کے خیال کو کئی نامور فلم سازوں نے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

بولی وڈ کی سپر ہٹ فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ بنانے والے فلم ساز راکیش روشن نے کورونا پیار ہے کہ ٹائٹل اور کورونا کے موضوع پر فلم بنانے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے جب کہ دیگر فلمی پروڈیوسرز بھی اس معاملے پر نالاں دکھائی دیتے ہیں کہ اتنے بڑی وبا پر اس طرح کے کامیڈی ناموں کے ساتھ فلمیں بنانا مضحکہ خیز ہے۔

کہو نہ پیار ہے فلم کو 2000 میں ریلیز کیا گیا تھا اور اس فلم میں فلم ساز راکیش روشن نے اپنے بیٹے ہریتھک روشن کو متعارف کرایا تھا، فلم نے اچھی کمائی کی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: چین میں 70 ہزار سینما بند

بولی وڈ فلم سازوں کی جانب سے کورونا کے حوالے سے فلموں کے نام رجسٹرڈ کرائے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ہولی وڈ فلم ساز بھی اس حساس موضوع پر فلمیں بنائیں گے، تاہم تاحال ہولی وڈ سے ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

خیال رہے کہ دسمبر 2019 کے وسط میں چین کے شہر سے شروع ہونے والے مرض کورونا وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کو عالمی وبا قرار دیا تھا۔

مذکورہ مرض 18 مارچ کی دوپہر تک دنیا بھر کے 160 سے زائد ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 98 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 8 ہزار تک جا پہنچی تھی۔

مذکورہ وائرس اب اٹلی، ایران، اسپین، امریکا اور جرمنی میں تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے اور 18 مارچ کی دوپہر تک اٹلی میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے 31 ہزار تک جا پہنچی تھی جن میں سے ڈھائی ہزار مریض ہلاک ہو چکے تھے۔

ایران میں مریضوں کی تعداد 16 ہزار سے زائد ہو چکی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 988 تک جا پہنچی تھی، اسی طرح اسپین میں مریضوں کی تعداد 11 ہزار 826 تک جا پہنچی تھی جن میں سے 533 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

اٹلی اور اسپین کی طرح حیران کن طور پر جرمنی میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں مریضوں کی تعداد امریکا سے بھی زیادہ ہے، جرمنی میں 18 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہزار 360 تک جا پہنچی تھی، جن میں سے 26 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

اسی طرح 18 مارچ کی دوپہر تک کورونا وائرس امریکا کی تمام 50 ہی ریاستوں تک پھیل چکا تھا اور وہاں مریضوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے 6 ہزار تک جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 110 تک پہنچ گئی تھی۔