کورونا وائرس کے خلاف پاکستان نے فیس بک میسنجر کو ہتھیار بنالیا

23 مارچ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

پاکستان میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 873 تک پہنچ گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے اور غلط معلومات کی ترسیل کی روک تھام کے لیے طاقتور ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

فیس بک میسنجر نے دنیا بھر کی حکومتوں اور عالمی ادارہ صحت کے لیے ایک پروگرام کو متعارف کرایا ہے تاکہ وہ بروقت کورونا وائرس سے متعلق معلومات عوام تک پہنچاسکیں۔

اس پروگرام کے تحت میسنجر ڈویلپرز کو حکومتی اداروں سے کنکٹ کرکے ایپس اور چیٹ بوتش کی تیار میں سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ لوگوں کو وبا کے بارے میں تازہ ترین صورتحال، ذہنوں میں موجود سوالات کے جواب اور دیگر کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔

پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جو فیس بک میسنجر کے اس نئے پروگرام میں شامل ہوئے ہیں اور ایک چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے۔

فیس بک نے ایک بلاگ میں بتایا کہ ارجنٹائن، یونیسیف اور پاکستان کی وزارت قومی صحت نے میسنجر کو کووڈ 19 معلومات کو شیئر کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

اس لنک پر جاکر آپ پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے مختلف معلومات کو حاصل کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس پروگرام کے حوالے سے کہا 'کورونا وائرس کے عالمی بحران کے لیے فیس بک کا تعاون عوامی شعور اجاگر کرنے اور شہریوں کو اہم طبی ٹپس کی فراہمی کے لیے بہت اہم ہے، میسنجر کی مدد سے ہمیں کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات جاننے کے خواہشمند افراد تک مستند معلومات کی فراہمی میں مدد ملے گی جبکہ اس سے ہیلپ لائن کو زیادہ اہم کیسز کے لیے اوپن رکھنے میں مدد ملے گی'۔

فوٹو بشکریہ فیس بک
فوٹو بشکریہ فیس بک

فیس بک کی جانب سے hackathon کو تشکیل دیا جارہا ہے، ڈویلپرز کی کووڈ 19 کے مسائل جیسے سماجی فاصلے کے حوالے سے میسجنگ حل کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

فیس بک کی زیرملکیت اپلیکشن واٹس ایپ کی طرح میسنجر بھی دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپ ہے جسے روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔

چونکہ واٹس ایپ اور میسنجر مفت سروسز ہیں اور بس انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہوتی ہے، تو صارافین کی جانب سے اکثر اسے ٹیکسٹ میسجز پر ترجیح دی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اور میسنجر کو اکثر غلط معلومات کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کی روک تھام کے لیے فیس بک کی جانب سے گوگل، ٹوئٹر اور دیگر کمپنیوں کی طرح مختلف اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

فیس بک کی جانب آفیشل ذرائع سے مواد کی فراہمی کے لیے ایک نئے کورونا انفارمیشن سینٹر کے قیام کا اعلان کیا تھا جبکہ واٹس ایپ پر عالمی ادارہ صحت کے لیے ایک چیٹ بوٹ اور ہب کو بھی متعارف کرایا گیا۔