مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

عمر عبداللہ نے احتجاجاً شیو نہ کرنے کا عزم کیا تھا—تصویر:ٹوئٹر
عمر عبداللہ نے احتجاجاً شیو نہ کرنے کا عزم کیا تھا—تصویر:ٹوئٹر

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو 8 ماہ کی حراست کے بعد رہا کردیا گیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو حراست میں لے کر نظر بند کردیا گیا تھا۔

تاہم آج صرف عمر عبداللہ کی رہائی عمل میں آئی اور محبوبہ مفتی تاحال زیر حراست ہیں، رہائی کے بعد انہوں نے زیر حراست دیگر افراد کو بھی رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'سفاکانہ' قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کی حراست میں توسیع

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ رہائی کا فیصلہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پر کیا گیا ہے۔

رہائی کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ’حراست کے 232 دن بعد بالآخر آج میں ہری نواس سے نکل آیا، آج کی دنیا 5 اگست 2019 سے بہت مختلف ہے‘۔

خیال رہے کہ ہری نواس سری نگر میں ان کی سرکاری رہائش کے قریب قائم ایک گیسٹ ہاؤس ہے جہاں سے رہائی کے وقت ان کے چہرے پر بڑی سفید داڑھی نمایاں تھی کیوں کہ انہوں نے رہا نہ کیے جانے تک احتجاجاً شیو نہ کرنے کا عزم کیا تھا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’آج مجھے اندازہ ہوا کہ ہم زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہمارے جتنے لوگ زیر حراست ہیں انہیں رہا کیا جانا چاہیے، ہمیں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومت کے احکامات پر لازمی عمل کرنا چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ گرفتار

بعدازاں ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں ازراہ مذاق ’قرنطینہ میں رہنے کے لیے طریقے‘ بتانے کی بھی پیشکش کی، ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کو قرنطینہ یا لاک ڈاؤن میں رہنے کے طریقے معلوم کرنے ہیں تو میرے پاس کئی ماہ کا تجربہ ہے‘۔

دوسری جانب بدستور حراست میں موجود محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پیغام میں عمر عبداللہ کی رہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خوشی ہے کہ وہ رہا ہوگئے اور خواتین کی طاقت اور آزادی کی باتوں کے لیے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ حکومت خواتین سے زیادہ خوفزدہ ہے‘۔

واضح رہے کہ عمر عبداللہ کی رہائی کے لیے ان کی بہن نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی تھی جس پر گزشتہ ہفتے عدالت نے مرکزی حکومت سے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا تھا کہ کیا اس کا عمر عبداللہ کو رہا کرنے کا ارادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی حراست کے خلاف بہن کا عدالت سے رجوع

عدالت نے حکومت کو یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر آپ انہیں رہا کررہے ہیں تو جلدی رہا کردیں ورنہ ہم پھر اس معاملے کو میرٹ پر سنیں گے۔

قبل ازیں 13 مارچ کو ان کے والد اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو حراست سے رہا کیا گیا تھا۔