سندھ، بلوچستان میں نماز کے اجتماعات پر پابندی

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

نماز کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ کورونا وائرس کی وجہ سے کیا گیا- فائل فوٹو:اے پی
نماز کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ کورونا وائرس کی وجہ سے کیا گیا- فائل فوٹو:اے پی

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مصر کی جامعۃ الاظہر کی جانب سے جمعے کی نماز اور دیگر باجماعت نماز معطل کرنے کی ہدایات پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اتفاق رائے نہیں کرپائے تاہم سندھ اور بلوچستان حکومت نے مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران حنفی مسلک کے معروف علما نے جامعۃ الاظہر کی ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کیا تاہم اہل تشیع اور اہل حدیث مسلک کے نمائندوں نے اس کی حمایت کی۔

دریں اثنا سندھ حکومت نے سماجی دوری برقرار رکھنے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مساجد میں باجماعت نماز بشمول نماز جمعہ کے اجتماعات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حکومت نے تمام مسالک کے علما سے مشاورت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے، عوام اب مساجد میں نماز ادا نہیں کرسکے گی صرف مسجد کے عملے سمیت 5 افراد نماز ادا کرسکیں گے‘۔

علاوہ ازیں صوبائی وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ پابندی 5 اپریل تک جاری رہے گی۔

دوسری جانب کوئٹہ میں رات گئے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت نے جمعے کی نماز پر صوبے بھر میں پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

تاہم نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا گیا کہ مساجد کھلی رہیں گی اور صرف 5 افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی جن میں ایک امام اور دیگر 4 افراد ہوں گے۔

ساتھ ہی عوام سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ وہ گھر پر نمازیں ادا کریں۔

قبل ازیں اسلام آباد میں ویڈیو کانفرنس کے دوران صدر مملکت نے علما کے ساتھ کورونا وائرس وبا کے پھیلاؤکے حوالے سے گفتگو کی اور درخواست کی کہ وہ عوام کو گھروں میں رہنے اور نماز ادا کرنے کی تجویز دیں تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

انہوں نے قاہرہ کی اسلامی درسگاہ جامعۃ الاظہر کی ہدایات پر یہ درخواست کی کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر عوام فرض نماز مساجد کے بجائے گھروں میں ادا کریں۔

صدر عارف علوی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سماجی دوری کو اس بحران سے نمٹنے کا واحد حل بتایا اور ایسی صورتحال میں اسلام میں دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا۔

تاہم حکام کی امیدوں کے برعکس بریلوی اور دیوبندی مسلک کے کئی علما نے ان کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور یہاں تک کہ باضابطہ بیان کی بھی مخالفت کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’علما اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ حکومت کی دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے‘۔

علاوہ ازیں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی اور بریلوی مدارس کے بورڈ کے سربراہ مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’صدر عارف علوی سے ملاقات کے بعد نکلنے والے نتیجے کا تاثر غلط پیش کیا جارہا ہے، ہم نے جامعۃ الاظہر کے فتویٰ سے اتفاق نہیں کیا‘۔

اسی طرح کی رائے وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ قاری حنیف جالندھری دیوبندی مسلک کے مدرسوں کے بورڈ نے بھی پیش کی اور حکومت سے جامعۃ الاظہر کی جانب سے جاری کیے گئے ’احکامات‘ کی اصل کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر عارف علوی کی علما سے نمازوں کی باجماعت ادائیگی روکنے کی درخواست

دوسری جانب اہل حدیث مسلک کی نمائندگی کرنے والے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما سینیٹر ساجد میر نے گورنر ہاؤس لاہور سے ویڈیو کانفرنس میں شکرت کی اس کے علاوہ اہل تشیع علما میں اسلام آباد سے علامہ امین شہیدی اور علامہ عارف واحدی، کراچی سے علامہ شہنشاہ نقوی اور لاہور اور کوئٹہ سے دیگر نے مساجد میں اجتماعات معطل کرنے کی پیشکش کو متفقہ طور پر منظور کیا۔

پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ’رمضان میں روزے رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے تاہم اسے ڈاکٹروں کی تجویز پر معطل کیا جاسکتا ہے اور اب یہ اقدام بھی ڈاکٹروں کی تجویز پر کیا جارہا ہے‘۔

تاہم بریلوی اور دیوبندی علما کی جانب سے کہا گیا کہ حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں اور امام بڑے پیمانے پر اجتماعات سے گریز کریں اور خطبے کو مختصر رکھیں، بچوں اور بوڑھوں سے گھر میں نماز ادا کرنے کہا جائے جبکہ الرجی اور فلو جیسی بیماری والے افراد کو مساجد نہ آنے کا کہا جائے۔

مزید برآں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام اجتماعات بشمول روزانہ کی نمازوں پر مکمل پابندی کی جانب نہیں جارہے تاہم یہ دیکھنا چاہیے کہ جماعت اہم ہے یا نمازی، انسانوں جانوں کو بچانا فرض ہے‘۔


یہ خبر 27 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی