لاہور: ڈاکٹرز کی 'غفلت' کے باعث کورونا وائرس کے مریض کی موت

27 مارچ 2020

ای میل

وزیر صحت پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی — فائل فوٹو / ڈان
وزیر صحت پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی — فائل فوٹو / ڈان

لاہور کے میو ہسپتال میں کورونا وائرس کا مریض ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث جاں بحق ہوگیا۔

شیخوپورہ کے رہائشی 73 سالہ مریض کو چند روز قبل کورونا وائرس کی تشخیص پر علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔

مریض کی لاش جمعہ کی صبح ہسپتال کے واش روم میں پائی گئی۔

سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ 'آج میو ہسپتال لاہور کے کورونا وارڈ میں ایک مریض ڈاکٹروں کی سنگدلی کے باعث مارا گیا، انہیں رات کو وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی لیکن مدد مانگی تو انہیں رسیوں کے ساتھ بیڈ سے باندھ دیا گیا اور صبح کو وہ انتقال کر گئے۔'

انہوں نے کہا کہ 'میو ہسپتال کا عملہ کبھی کورونا وائرس کے مریض کو پاگل قرار دے رہا ہے، کبھی کہتے ہیں وہ باتھ روم میں دل کے دورے سے مرے، کہتے ہیں انہیں باندھا بھی نہیں گیا۔'

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے حامد میر کے ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سنگین الزامات ہیں، پنجاب حکومت ذمہ داروں کا تعین کرے یہ تو سیدھا سیدھا قتل کا کیس ہے، ہسپتالوں کو ہسپتالوں کی طرح چلائیں یہ کیا طریقہ ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے 2 افراد ہلاک

کورونا کے مریض کی موت کے بعد ان کے ساتھی مریض نے ڈان نیوز کو بتایا کہ متوفی کی رات 3 بجے طبیعت خراب ہوئی جس پر ڈاکٹر کو آواز دی لیکن کسی نے بات نہیں سنی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے خود آنے کی بجائے صفائی والے عملے کو بیھج دیا، صفائی کرنے والے 2 افراد نے مریض کو بیڈ پر باندھ دیا، مریض رات بھر درد سے چیختے رہے جس کی وجہ سے کوئی مریض نہیں سو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریض کو سانس کی تکلیف بھی تھی، انہیں صبح 10 بجے تک باندھے رکھا گیا، صبح مریض کے ہاتھ کُھلے تو وہ واش روم گئے لیکن باہر نہ آسکے۔

تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

بعد ازاں پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے میو ہسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کے باعث کورونا وائرس کے مریض کی ہلاکت کی خبر کا نوٹس لے لیا۔

ترجمان محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد معاملے کی تحقیقات کے لیے خود ہسپتال پہنچیں، اس موقع پر وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل، سی ای او میو ہسپتال پروفیسر اسد اسلم خان و دیگر ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے پنجاب میں پہلی ہلاکت

یاسمین راشد نے کہا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے دو سینئر پروفیسرز کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور واقعے میں ڈاکٹرز کی غفلت ثابت ہونے پر سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ پنجاب میں کورونا وائرس سے چوتھی ہلاکت تھی۔

اس سے قبل راولپنڈی میں ایک اور لاہور میں 2 افراد وبا کا شکار ہو کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔

وائرس سے خیبر پختونخوا میں 3، سندھ میں ایک، بلوچستان میں ایک اور گلگت بلتستان میں بھی ایک شخص انتقال کر چکا ہے۔

پاکستان میں جمعہ کو بھی مزید کیسز سامنے آنے سے ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراف کی مجموعی تعداد 1300 سے بڑھ گئی ہے۔