ووہان میں پاکستانی طلبہ انخلا نہ کیے جانے پر شکر گزار ہیں، ڈاکٹر ظفر

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ یہ کام صرف دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے ذریعے ممکن ہوسکا—فوٹو:ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ یہ کام صرف دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے ذریعے ممکن ہوسکا—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ صوبے ووہان میں کورونا وائرس کی وبا عروج میں ہونے کے باوجود پاکستانی طلبہ کے انخلا نہ کیے جانے پر چین کی حکومت کے شکرگزار ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کا دورہ کرنے والے چینی وفد میں شامل ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نے کہا کہ ہم نے اپنے طلبہ کو ووہان سے نہ نکالنے کا سخت فیصلہ کیا تھا، ہم نے چینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا اور صرف ان کی سفارشات پر عمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 5، جڑواں شہر میں 2 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں وائرس بتدریج پھیل رہا ہے، چین میں رہنے والے وہی طلبہ انخلا نہ کیے جانے پر حکومت سے اظہار تشکر کررہے ہیں اور ہم سے درخواست کررہے ہیں کہ جس طرح سے چینی حکومت نے ان کی دیکھ بھال کی ہے اسی طرح ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا تو انہوں نے اسکائپ کے ذریعے ووہان میں پاکستانی طلبہ سے بات کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’طلبہ نے صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ (انہیں واپس نہ لانے) کا فیصلہ کرنا صحیح تھا حالانکہ ان کے اہل خانہ حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے‘۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ چین نے کم از کم 6 کروڑ افراد کو لاک ڈاؤن میں ڈال کر طب کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا۔

مزید پڑھیں: ہندو، مسلمان، مسیحی، امیر و غریب سب کو کورونا: ڈی جے براوو کا نیا گانا

انہوں نے کہا کہ دنیا کو متعدی بیماری کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے چین سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین کی جانب سے فراہم کردہ طبی سامان اور طبی مہارت پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ واقعی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں رپورٹ ہونے والے تمام کیسز میں سے ایک بھی مریض ایسا نہیں جس کی سفری تاریخ میں چین کا حوالہ ملتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ کام صرف دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہوسکا۔

اس سے قبل این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے چینی وفد کا استقبال کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو دکھایا کہ وہ پاکستان کا اتحادی ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر لوزوہوئی نے این آئی ایچ کے دورے پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے لیے بیجنگ کی ہر طرح کی مدد جاری رہے گی۔

لوزوہوئی کی سربراہی میں چینی طبی ماہرین نے این آئی ایچ اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہیں ہسپتال میں کورونا وائرس سے متعلق انتظامات کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کورونا سے ہلاکتیں 31 ہزار تک جا پہنچیں، مریض 6 لاکھ 65 ہزار سے متجاوز

بریفنگ کے بعد چینی وفد نے این آئی ایچ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور ان تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

علاوہ ازیں این آئی ایچ کے چیف ڈائریکٹر چینی طبی ماہرین کو پاکستان میں وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال اور اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔

چین سے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم کی پاکستان آمد

واضح رہے کہ دوست ملک چین سے 8 ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم اور امداد کی ایک اور کھیپ گزشتہ روز پاکستان پہنچ گئی تھی۔

ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا تھا کہ چین کا خصوصی طیارہ امدادی سامان لے کر اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر اترا، جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ، چیئرمین این ڈی ایم اے، پاکستان میں چینی سفیر نے چینی عملے کا استقبال کیا۔

اس خصوصی پرواز میں آنے والے 8 چینی ڈاکٹرز کورونا وائرس کا علاج کرنے میں ماہر ہیں۔

اس سے قبل 25 مارچ کو ای کامرس کمپنی علی بابا کے ریٹائر چیئرمین جیک ما کی جانب سے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے استعمال ہونے والے ضروری طبی سامان کی فراہمی کی کھیپ پاکستان پہنچی تھی۔

جیک ما فاؤنڈیشن اور علی بابا فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے طبی سامان فراہم کیا گیا تھا۔

پاکستان میں نئے کورونا کیسز

دنیا بھر کو اپنی دہشت سے خوف زدہ کرنے والے کورونا وائرس کا پاکستان میں بھی تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے اور یہاں تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ اموات 14 تک پہنچ چکی ہیں۔

ملک کا پہلا کیس سندھ میں سامنے آنے کے بعد اسی صوبے کے متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ تھی تاہم گزشتہ 2 روز میں پنجاب میں تیزی سے بڑھنے والے کیسز کے بعد اب وہاں سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔

اس عالمی وبا کے پاکستان میں کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی مختلف صوبوں اور علاقوں نے اقدامات اٹھاتے ہوئے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں لگادی تھی جبکہ لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کردیا تھا۔

صوبوں کی بات جائے تو پنجاب میں 570 کیسز، سندھ 469، بلوچستان 138، خیبرپختونخوا 188، گلگت بلتستان 116، آزاد کشمیر 2 اور اسلام آباد 43 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ ملک میں 28 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔