سپریم کورٹ نے زیر سماعت قیدیوں کی رہائی کے تمام فیصلے معطل کردیے

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020

ای میل

عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کیلئے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کیلئے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے سمیت قیدیوں کی رہائی کیلئے دیگر عدالتوں سے جاری فیصلے بھی معطل کردیے۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کو قیدیوں کو رہا کرنے کے مزید احکامات دینے سے بھی روک دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کی۔

سماعت میں اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہائی کورٹس مختلف فیصلے دے رہی ہیں لیکن درخواست گزار کے حق دعویٰ پر کوئی اعتراض نہیں اٹھا رہا۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے سپریم کورٹ گائیڈ لائن طے کرے۔

یہ بھی پڑھیں: قیدیوں کی رہائی، ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا بینچ تشکیل

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کورونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن کورونا کے باعث یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدی رہا کردیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے سب معلوم ہے، دیکھنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹس از خود نوٹس کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم سے منشیات اور نیب کے مقدمات میں گرفتار کیے گئے ملزمان کو ضمانت دے دی جبکہ دنیا میں محتاط طریقہ کار کے ذریعے لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ چھوٹے جرائم میں ملوث ملزمان کورہائی ملنی چاہیے، خوف نہ پھیلایا جائے، ہائی کورٹ نے دہشتگردی کے ملزمان کے علاوہ سب کورہا کردیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آفت میں لوگ اپنے اختیارات سے باہر ہوجائیں، یہ اختیارات کی جنگ ہے ان حالات میں بھی اپنے اختیارات سے باہر نہیں جانا چاہیے، صرف ان کو چھوڑدیں جن کی 2 سے 3 ماہ کی سزائیں باقی رہتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 408 قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ معطل کردیا اور قیدیوں کی رہائی پر عملدرآمدکو بھی روک دیا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے دیگر عدالتوں کی جانب سے جاری فیصلے بھی معطل کردیے جبکہ ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کو قیدیوں کو رہا کرنے کے مزید احکامات دینے سے بھی روک دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے وفاق، تمام ایڈووکیٹ جنرلز، انسپکٹر جنرل اسلام آباد، صوبائی سیکریٹریز داخلہ، آئی جیز جیل خانہ جات، پراسیکیوٹر جنرل نیب، انسداد منشیات فورس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

قیدیوں کی رہائی کا معاملہ

خیال رہے کہ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی جیل کے قیدیوں میں وائرس پھیل گیا تو بہت مشکلات ہو جائیں گی، ابھی تک صرف چین ہی اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور چین میں بھی 2 جیلوں میں وائرس پھیلنے کے بعد معاملات خراب ہوئے تھے‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ ایمرجنسی نوعیت کے حالات ہیں، تمام اقدامات کرنا ہوں گے، ہماری قوم گھبرانے والی نہیں لیکن اقدامات تو کرنے ہی ہوں گے‘۔

بعدازاں 24 مارچ کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر 408 قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کا حکم دیا تھا۔

اس موقع پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ’یہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور ہم صرف ان ملزمان کے حوالے سے فیصلہ کر رہے ہیں جو سزا کے بغیر قید ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے

چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ چیف کمشنر، آئی جی پولیس اور ڈی جی اے این ایف مجاز افسر مقرر کریں اور تمام مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی کے مطمئن ہونے پر قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ جس ملزم کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ باہر نکل کر معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اسے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مذکورہ احکامات کے بعد سید نایاب حسن گردیزی نے راجہ محمد ندیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں 6 صفحات پر مشتمل پٹیشن دائر کی تھی جس میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکوٹ (آئی ایچ سی) کے دائرہ اختیار میں ازخود نوٹس شامل ہے؟

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم اختیارات کے منافی ہے کیونکہ یہ خالصتاً ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے تناظر میں زیر سماعت قیدیوں کے معاملے پر نظر ثانی کرے۔

اپیل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 20 مارچ والے حکم سے غلطیاں پیدا ہوئیں کہ وہ قانون، آئین اور پبلک پالیسی کے خلاف ہے۔

جس پر عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس ازخود نوٹس کے اختیارات سے متعلق پٹیشن پر سماعت کرنے کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا کہ جس کے تحت ہائی کورٹ نے 20 مارچ کو زیر سماعت قیدیوں (یو ٹی پی) کو ضمانت دے دی تھی۔