کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرقیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی — فائل فوٹو:اے پی پی
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرقیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی — فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے پیش نظر 408 قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کا حکم دے دیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر قیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ملزمان عدم تشدد کے جرائم میں قید ہیں جس پر اے این ایف کے پراسیکیوٹر وسیم قریشی نے عدالت کو بتایا کہ نارکوٹکس بھی انتہائی سنگین جرم ہے۔

مزید پڑھیں: 'حکومت قیدیوں کو کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کرے'

انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ علاقہ غیر سے ہیں اور کچھ پرانے سزا یافتہ بھی ہیں‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور ہم صرف ملزمان کے حوالہ سے فیصلہ کر رہے ہیں جو سزا کے بغیر قید ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم تفتیشی افسر کے مطمئن ہونے پر ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیتے ہیں اور ایک کمیٹی قائم کر دیتے ہیں جو حکومتی پالیسی کو سامنے رکھ کر ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کرے‘۔

عدالت میں 283 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت کا کہنا تھا کہ ’ 17 ملزمان کے ضمانتی مچلکے داخل ہونے پر انہیں بھی رہا کر دیا جائے گا‘۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ چیف کمشنر، آئی جی پولیس اور ڈی جی اے این ایف مجاز افسر مقرر کریں اور تمام مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی کے مطمئن ہونے پر قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ جس ملزم کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ باہر نکل کر معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اسے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملزمان کو ضمانت دے رہے ہیں جن کی رہائی کمیٹی کے مطمئن ہونے سے مشروط ہو گی‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔

اگر ملک میں مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے جہاں متاثرین کی تعداد 394 ہے جبکہ پنجاب 265 متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں 110 افراد جبکہ خیبرپختونخوا میں 38 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

مزید برآں اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص متاثر ہے۔

علاوہ ازیں ملک میں 7 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 8 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔