سعودی حکومت نے مطاف کو طواف کے لیے کھول دیا

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2020

ای میل

سعودی عرب نے 23 مارچ کو ملک میں کرفیو نافذ کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
سعودی عرب نے 23 مارچ کو ملک میں کرفیو نافذ کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

سعودی حکومت نے محدود تعداد میں مطاف (خانہ کعبہ کے صحن) میں طواف کرنے کی اجازت دے دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حرمین کے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'مطاف پر طواف کا سلسلہ بحال کردیا گیا ہے'۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب: مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'لوگوں کی محدود تعداد کو عبادت کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے'۔

ٹوئٹر پر جاری تصاویر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی کم تعداد بیت اللہ کے اطراف میں موجود ہے اور لوگ فاصلے میں کھڑے ہیں اور عبادت میں مشغول ہیں۔

بیت اللہ کے اطراف میں گارڈز بھی کھڑے دکھائی دیتے ہیں جبکہ رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر 4 مارچ کو عمرے کی ادائیگی عارضی طور پر معطل کردی تھی جس کے اگلے روز مطاف کو خالی کروادیا گیا تھا۔

عمرے کی عارضی معطلی کے حوالے سے سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فیصلے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور حالات تبدیل ہوتے ہی فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔

اس سے قبل حکومت نے مکہ اور مدینہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی تھی تاہم دونوں مقدس شہر سعودی عرب کے شہریوں کے لیے کھلے رکھے گئے تھے جہاں شہریوں کو نماز اور عبادات کی اجازت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس سے سعودی عرب میں پہلی موت کی تصدیق

خیال رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت 25 مارچ کو رپورٹ ہوئی تھی تاہم اس سے ایک روز قبل ہی حکومت نے ملک میں کرفیو کا نفاذ کردیا تھا اور مساجد میں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

سینئر علما کی کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تمام مساجد سے نمازوں کے لیے اذان دی جائے گی لیکن وہاں نماز کی ادائیگی نہیں ہوگی تاہم اس فیصلے کا اطلاق مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی پر نہیں ہوگا۔

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اب تک ایک ہزار 453 ہوگئی جبکہ 8 افراد اس وبا سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔