مقبوضہ کشمیر میں روزگار کے متنازع قانون کو عمر عبداللہ نے توہین قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

عمر عبداللہ کو گزشتہ ماہ رہا کردیا گیا تھا—فوٹو:ٹوئٹر
عمر عبداللہ کو گزشتہ ماہ رہا کردیا گیا تھا—فوٹو:ٹوئٹر

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ خطے کو تقسیم کرنے کے بعد پہلی مرتبہ سرکاری نوکریوں کے حوالے سے متنازع قانون جاری کیا جس کو سابق وزیر اعلیٰ نے توہین قرار دے دیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 'نئے قانون کے تحت جونیئر اسسٹنٹ اور چپراسی جیسی صرف نچلے درجے کی نوکریاں مقبوضہ جموں و کشمیر کا مقامی ڈومیسائل رکھنے والے افراد کے لیے مختص کی گئی ہیں'۔

متنازع قانون کے تحت 'دیگر تمام نوکریاں پورے بھارت کے شہریوں کے لیے بھی کھلی ہوں گی'۔

خیال رہے کہ اس سے قبل تمام نوکریاں خطے کے شہریوں کے لیے مختص تھیں اور انہیں زمین کا ملکیتی حق بھی حاصل تھا۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا

بھارت کی حکومت نے متنازع قانون کے تحت 'شہریت کی تعریف بھی بدل دی ہے اور اس میں گزشتہ 15 برس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں رہنے والے افراد کو بھی شامل کرلیا گیاہے'۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں میں 'ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو وہاں 7 برس سے زیر تعلیم ہوں اور میٹرک اور بارہویں جماعت تک تعلیم قائم کیے گئے نئے خطوں میں قائم تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہو'۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی حکومت کے عہدیداروں کے بچوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق 'مذکورہ قانون کی شقوں کے تحت کوئی بھی فرد بنیادی اسکیل کی چوتھی سطح کا اہل نہیں ہوگا جس کی تنخواہ 25 ہزار 500 بھارتی روپیہ بنتی ہے، سوائے جموں و کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد'۔

متنازع قانون کا نوٹی فکیشن بھارت کی وزارت داخلہ سے جاری کیا گیا اور تحصیل دار کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا فوری نفاذ کرے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس قانون کے جاری ہوتے ہی اپنے بیان میں اس کو مسترد کردیا۔

نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'مرکزی حکومت زخموں کو گہرا کرکے توہین کر رہی ہے'۔

انہوں نے ڈومیسائل کے حوالے سے قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس سے جنگ جاری ہے اس طرح کے قانون جاری کیے جارہے ہیں۔

ٹوئٹر پر بیان میں انہوں نے کہا کہ 'ایک ایسے وقت میں جب تمام کوششیں اور توجہ کورونا وائرس پر ہونی چاہیے حکومت جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل میں گھری ہوئی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: فاروق عبداللہ کی نظر بندی 8 ماہ بعد ختم

عمر عبداللہ نے کہا کہ 'زخموں کی توہین کی انتہا ہے جبکہ ہمیں قانون میں وعدے کے مطابق کوئی تحفظ نہیں دیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈومیسائل کا قانون حقائق کے برخلاف اور کھوکھلا ہے یہاں تک کہ مرکز کی ستائش سے ایک نئی پارٹی بنادی گئی ہے جن کے رہنما دہلی میں اس قانون کی لابنگ کر رہے تھے'۔

ایک اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ڈومیسائل کے قانون سے نہ صرف ریاست کی موجودہ سرحدوں کو جھنجوڑا گیا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کو بدترین مسائل سے دوچار کرنے کی کوشش ہے'۔

خیال رہے کہ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق اتحادی جماعت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو 5 اگست کے متنازع قانون کے بعد نظر بند کردیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: مزید 3 ڈاکٹروں، دو نرسوں میں کورونا وائرس کی تصدیق

مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت بشمول حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کو بھارتی حکومت نے گرفتار یا گھروں میں نظر بند کرلیا تھا جو متنازع حیثیت کو ختم کرنے کے مخالف تھے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کا مکمل لاک ڈاؤن کیا تھا جو 8 مہینے گزرنے کے باوجود جاری ہے جہاں انٹرنیٹ اور مواصلات کے دیگر ذرائع سمیت نقل و حرکت کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔