پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے 'غیر قانونی' ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ —فائل فوٹو: ڈان نیوز
ترجمان دفتر خارجہ —فائل فوٹو: ڈان نیوز

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں متعارف کروائے گئے نئے ڈومیسائل قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جموں کشمیر تنظیمِ نو آرڈر 2020 بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

عائشہ فاروقی نے بھارت کے اس اقدام کو 'غیر قانونی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور عالمی وبا کی آڑ میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری کر رہا ہے۔

ترجمان عائشہ فاروقی نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی ڈیموگرافی (آبادی کا تناسب) کم کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کابل میں پاکستانی سفارتی اہلکار میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، دفتر خارجہ

بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے اس اقدام کا نوٹس لیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جواب طلب کرے۔

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ لاگو کیا ہے جس کے مطابق جو جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم ہے وہ اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکیں گے۔

ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا ہو اور امتحان دیے ہوں۔

اس سے قبل جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ وہ ہی شخص ڈومیسائل کا مستحق ہوگا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ری ہیبیلٹیشن (بحالی) کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔

مشکل گھڑی میں تعاون پر چین کا شکریہ

دوران بریفنگ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے چین کی جانب سے پاکستان کی مدد کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں دوست ملک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین سے مطلوبہ طبی سامان منگوایا گیا۔

ادھر ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ چین کی مدد کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ چین نے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایک علیحدہ ہسپتال قائم کرنے کے لیے 40 لاکھ ڈالر فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج صبح بھی چین سے ایک پرواز مختلف چینی آرگنائزیشنز سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر کی امداد لے کر پہنچی ہے، اس امدادی سامان میں حفاظتی آلات، وینٹی لیٹرز، فیس ماسک اور ٹیسٹنگ کٹس شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور اسی سلسلے میں مدد کے لیے چین نے نہ صرف امدادی سامان فراہم کیا بلکہ اپنی ایک 8 رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم یہاں بھیجی جو پاکستانی ماہرین کو کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔

وزیراعظم کے مطالبے کی عالمی سطح پر گونج

بریفنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان کے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض معاف کرنے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اس مطالبے کی گونج عالمی سطح پر سنائی دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین وزرائے خارجہ ویڈیو کانفرنس، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور جی-20 سمٹ میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان صحیح سمت کی جانب اٹھائے گئے قدم کا خیرمقدم کرتا ہے اور اُمید کرتا ہے کہ جلد از جلد اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا تعمیراتی صنعت کی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ

انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ امیر معیشتیں دنیا کے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کی تیاری کریں۔

وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ کورونا وائرس سے لڑتے پاکستان جیسے غریب ممالک جو بہت کمزور ہیں ان کے لیے کچھ قرضے معاف کرنے پر غور کیا جائے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے بیرون ملک پھنسے والوں کے معاملے پر کہا کہ حکومت قطر، دبئی، سعودی عرب اور تھائی لینڈ سے اپنے شہریوں کو اب تک واپس پہنچایا ہے جبکہ استنبول، کوالالمپور، تاشقند، باکو، بغداد، لندن اور ٹورنٹو سے واپسی کے لیے پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔