کورونا وائرس: پاکستان کی شرح نمو میں مزید 2 فیصد کمی کی پیشگوئی

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

نئے اور موجودہ قرضوں کے لیے شرائط میں نرمی کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
نئے اور موجودہ قرضوں کے لیے شرائط میں نرمی کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

موڈیز انویسٹرز سروس نے کورونا وائرس کی وجہ سے رواں مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو میں مزید 2 فیصد کمی کی پیش گوئی کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں مزید کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے حالیہ اقدامات سے ملکی بینکوں پر وبا کے اثرات کم ہوں گے۔

مزید پڑھین: موڈیز نے پاکستان کا معاشی منظرنامہ منفی سے مستحکم قرار دے دیا

واضح رہے کہ 17 مارچ کو موڈیز نے خطے میں زیادہ تر بیرونی ترقی پر مشتمل عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے دسمبر میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.9فیصد سے کم ہوکر 2.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

تاہم نیویارک سے تعلق رکھنے والی اس ایجنسی نے پاکستان کے لیے اس سے بھی کم ترقی کا اشارہ کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں ایجنسی نے کہا کہ ہمیں مالی سال 2020 جو 30 جون کو ختم ہورہا ہے اس کے لیے پاکستان کی اصل جی ڈی پی ترقی 2 سے 2.5 فیصد تک کی توقع ہے جو ہماری پہلے کی گئی 2.9 فیصد کی پیش گوئی سے بھی کم ہے۔

موڈیز انویسٹرز سروس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ نقل و حرکت پر پابندی سے سروسز پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملک کا اہم مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے اور اس کی برآمدات تقریباً 60 فیصد ہے تاہم یہ سپلائی چین میں خلل پڑنے یا آرڈرز کے ملتوی ہونے کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موڈیز نے پاکستانی بینکوں کے درجے کو مستحکم سے منفی کردیا

بیان میں مزید کہا گیا کہ فروری 2020 کے آخر تک مینوفیکچرنگ لون (خاص طور پر ٹیکسٹائل اور فوڈ سیکٹر) پر نجی شعبے کے قرضوں کا 62 فیصد حصہ تھا۔

موڈیز نے توقع ظاہر کی مرکزی بینک کی جانب سے حالیہ پالیسی اقدامات سے 5 بڑے پاکستانی بینکوں کی مدد کی جاسکے گی۔

علاوہ ازیں 26 مارچ کو اسٹیٹ بینک نے شرح سود 150 بیسز پوائنٹس کم کرکے 11 فیصد کردی تھی اور بینکوں کے کیپیٹل کنزرویشن بفرز (سی سی بی) کو 100 بیسز پوائنٹس کو کم کرکے 1.5 فیصد کردیا گیا تھا۔

مزید یہ کہ نئے اور موجودہ قرضوں کے لیے شرائط میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

موڈیز نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ معاشی سست روی میں کاروباری پیداوار اور قرضوں میں اضافے کے دوران بینکوں کے اثاثہ جات پر منفی نتائج کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

مزیدپڑھیں: مالی خسارہ دور کرنے کے لیے منی بجٹ کے مجوزہ اقدامات ناکافی قرار

ساتھ ہی ایجنسی کے مطابق ملک کے بڑے 5 بینک حبیب بینک لمیٹڈ، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ اور الائیڈ بینک لمیٹڈ زیادہ یا بہت زیادہ حکومتی مدد سے فائدہ اٹھائیں گے جو ان کے کریڈٹ پروفائلز کو اسٹینڈ الون کریڈٹ سے مدد دے گا۔