کورونا وائرس: اتحادیوں کا امریکا پر طبی درآمدات روکنے کا الزام

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2020

ای میل

امریکی صدر نے شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی— فوٹو:رائٹرز
امریکی صدر نے شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی— فوٹو:رائٹرز

یورپ سے جنوبی امریکا تک امریکا کے اتحادیوں کو شکایت ہے کہ عالمی طاقت ضروری طبی آلات کی سپلائی میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے حالانکہ وہ ان معاہدوں پر پہلے دستخط ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق فرانس اور جرمنی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکا ماسک پیدا کرنے والے سرفہرست ملک چین سے میڈیکل گریڈ کے ماسک کی خریداری کے لیے مارکیٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بڑی پیشکش کرکے نیلامی حاصل کر رہا ہے جبکہ یورپی خریداروں کا ماننا ہے کہ معاہدے ہوچکے ہیں۔

برازیل کے وزیر صحت نے بھی اسی طرح کے الزامات دہرائے ہیں۔

مزید پڑھیں:عوام کو ماسک پہننے کا مشورہِ دے کر ٹرمپ کا خود ماسک پہننے سے انکار

رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کی حکمران جماعت کے اہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ'پیسہ غیر اہم ہے، وہ کوئی بھی قیمت ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ بے چین ہیں'۔

جرمن حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 'امریکی بہت زیادہ پیسہ لیے متحرک ہیں'۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں چین میں سامنے آنے والے کورونا وائرس نے دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک کی حکومتیں اس حوالے سے طبی سامان کے حصول، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تیاری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور امریکا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن چکا ہے جہاں وینٹی لیٹرز سمیت دیگر طبی اشیا کی اشد ضرورت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے شہریوں کو رضاکارانہ طور پر ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی برادری پابندیوں کے خاتمے کیلئے امریکا پر دباؤ ڈالے، ایران

ٹرمپ نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ این 95 ماسک کی برآمد کو روک دیں کیونکہ اس کی امریکی طبی عملے اور دیگر افراد کو ضرورت ہے۔

امریکی میں قائم ملٹی نیشنل کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے کینیڈا اور لاطینی امریکا کو اپنی برآمد روکنے کا حکم دیا ہے جبکہ کمپنی نے کہا کہ 'ان اشیا کا انسانی بنیادوں پر خاص اثر ہے'۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ امریکا کی جانب سے برآمدات روکنا ایک غلطی ہے جو ناکام ہوجائے گی جبکہ ملک کا صحت کا نظام روزانہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے سیکریٹری داخلہ ایندریاس گیسل کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی کے 2 لاکھ ماسک چین سے جرمنی آرہے تھے جس کو بنکاک میں روک دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب عالمی سطح پر بحران ہو تو آپ کو ولڈ ویسٹ نظریے کو استعمال نہیں کرنا چاہیے'۔

امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس ہفتے امریکی کمپنیاں اورحکومت درآمدات کے لیے مارکیٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ سے گھروں میں رہنے سے متعلق حکم نافذ کرنے کا مطالبہ

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ امریکا اس وقت تک خریداری جاری رکھے گا جب تک ہمارے پاس تعداد کافی نہیں ہوجاتی اور رواں برس اگست تک ان اشیا کی تلاش جاری رہ سکتی ہے۔

فرانس میں بھی علاقائی رہنماؤں نے اسی طرح کے بیانات دیے اور کہا کہ ماسک کو اپنے علاقے گرینڈ ایسٹ تک پہنچانا ایک جنگ تھی جہاں کورونا وائرس سب سے پہلے سامنے آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرڈر کو آخری منٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

جین روٹنر نے مقامی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 'ایئرپورٹ پر امریکیوں نے ہمارے مقابلے میں اشیا کی قیمتیں تین یا چار گنا زیادہ ادا کرنے کی پیشکش کی'۔

پیرس ریجن کے رہنما ویلیری پیکریس کا کہنا تھا کہ انہیں ایک ملک نے بھاری قیمت دے کر آرڈر کے ذریعے مارا ہے تاہم انہوں نے امریکا کا نام نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں چند ہفتے قبل یہ اشیا ملی تھیں لیکن دوسروں کی مداخلت سے انہیں خریدنے میں ناکام رہے اور وہ مارکیٹ سے تین گنا زیادہ ادا کرنے کو تیار تھے'۔

فرانس کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ان رپورٹس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ایک عہدیدار نے اس طرح کی کوشش کا خدشہ ظاہر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے مارکیٹ کو نقصان پہنچے گا کیونکہ جو زیادہ ادائیگی کر سکتا ہے وہی انعام پاتا ہے۔