کورونا وائرس کے بحران میں سیاسی رہنماؤں کی جدوجہد پر ایک نظر

05 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس ہم تک صرف پہنچا ہی نہیں، بلکہ اس نے ہمیں حیرت میں بھی مبتلا کردیا ہے۔

اس سے نمٹنے کے لیے اب پاکستان نے بھی کمر کس لی ہے۔ حکومتیں اس کے پھیلاؤ پر ضابطہ لانے کی تگ و دو کر رہی ہیں۔ موجودہ بحران کی صورتحال میں چند سیاستدانوں اور افسران کی مشکل حالات کے باوجود کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سطحوں پر ہمارے چند رہنما بھی ان دیکھے دشمن کے خلاف متاثر کن لڑائی لڑ رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا

وائرس کے خلاف قومی کوششوں کے چہرے کے طور پر ڈاکٹر ظفر مرزا روزِ اوّل سے محاذ پر سرگرمِ عمل ہیں۔ انہوں نے مرکز کی سطح پر ہونے والے تمام اقدامات کو مربوط بنانے جبکہ صوبوں نے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے زمینی معاملات کو سنبھالنے میں متاثر کن کام کیا ہے۔

انہوں نے وزارتِ صحت کو جنگ جیسے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رکھنے اور شہریوں تک معلومات کی فراہمی میں مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کی شخصیت میں وہ پُرسکون اور غیر جذباتی انداز جھلکتا ہے جس کی ایک ایسے وقت میں بہت زیادہ ضرورت ہے جب شہریوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔

مراد علی شاہ

اس بحران نے وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی قیادت کو خاص توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک کرپٹ اور نااہل حکومت کے حاکم سمجھے جانے والے مراد علی شاہ گزشتہ چند ماہ سے لے پکڑتے ہوئے نظر آئے ہیں۔

انہوں نے ہی سب سے پہلے بحران کی سنگینی کو بھانپا تھا اور سب سے پہلے غیر معمولی ایکشن لیا۔ مشکل فیصلے لینے والی وہ پہلی شخصیت تھے اور پوری صوبائی مشینری کو اس کام پر لگانے میں بھی انہوں نے پہل کی تھی۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ محض چند ماہ کے اندر ہی وہ اپنی حکومت اور اپنی جماعت کی ساکھ کو بدلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب

سندھ کی متاثرکن کارکردگی کا ایک اہم عنصر معلومات کی تیز، بروقت، واضح اور شفاف فراہمی ہے جو مرتضیٰ وہاب کی وجہ سے ممکن ہوسکی۔ وزیراعلیٰ کے نوجوان معاون کے طور پر انہوں نے ایک ایسے وقت میں مؤثر رابطہ کاری کے گراف کی نئی بلندیوں کو چھوا ہے جب اس قسم کی رابطہ کاری ایک دانشمندانہ پالیسی اور معقول فیصلوں کا حصہ بن جاتی ہے۔ مرتضیٰ وہاب کی بروقت اطلاعات کی فراہمی کی بدولت حکومتِ سندھ کے اقدامات کی گونج پیدا ہوئی۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو

سندھ کی اچھی کارکردگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹیم نے بروقت تحرک لیا۔ ایک طرف جہاں وزیرِاعلیٰ نے فیصلہ کن طرز اپنایا اور مرتضیٰ وہاب نے اطلاعات فراہم کرنے میں عمدہ کردار ادا کیا وہیں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس سیاسی وزن کو بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے جو معاملات کو آگے بڑھانے اور انہیں انجام تک پہنچانے کے لیے مطلوب ہوتی ہے۔ وہ سندھ کی صوبائی وزیرِ صحت ہونے کے ساتھ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی ہم شیرہ بھی ہیں۔ وہ نہ صرف مسلسل وزیرِاعلیٰ کے شانہ بشانہ رہی ہیں بلکہ پالیسی اور عملی اقدامات کے معاملات پر پیش پیش بھی رہی ہیں۔

تیمور سلیم جھگڑا

خیبرپختونخوا کے نوجوان وزیرِ صحت وائرس کے خلاف جنگ میں اپنی حکومت کا چہرہ بن چکے ہیں۔ تیمور سلیم جھگڑا کی مضبوط کارکردگی 2 باتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی یہ کہ انہوں نے ٹھوس معلومات، ڈھیر سارے اعداد وشمار اور مسئلے کو حل کرنے کے تجزیاتی طریقہ کار کو ایک خاص تربیتی عمل کے ذریعے جوڑ کر اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کی رابطہ کاری بہت ہی زیادہ متاثرکن رہی ہے۔

عثمان بزدار

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرگرم طرزِ عمل اپنا کر لوگوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ زیادہ تر لیڈران کی طرح انہوں نے بھی سست رفتار آغاز لیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے خطرے کی سنگینی کو بھانپ لیا اور وائرس کے خلاف حکومتِ پنجاب کی جنگ میں جان بھرنے کے لیے برق رفتاری سے کام کیا۔

پنجاب کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو بااختیار ہو اور وزیرِاعلیٰ نے اس ضرورت کو اپنی حالیہ سرگرمیوں سے پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اب چونکہ انہیں اجلاسوں کی قیادت کرتے، فیصلے لیتے اور میڈیا سے گفتگو، ہسپتالوں اور دیگر متعلقہ مقامات پر دورے کرتے ہوئے اور عموماً صورتحال سے آگاہ دیکھا جاتا ہے اس لیے اب وہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ منظرِ عام پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ وہ معمول سے ہٹ کر اپنی کارکردگی دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ اس بحران کے سبب پہلے سے زیادہ مضبوط رہنما بن کر سامنے آئیں۔

جام کمال

تفتان تنازع نے بلوچستان حکومت کو دفاعی طرزِ عمل اپنانے پر مجبور کردیا تھا۔ تاہم وزیرِاعلیٰ نے بلا تاخیر اپنی کوششوں سے صوبائی مشینری کو فعال انداز سے کام کرنے کے لیے مجبور کردیا. وزیرِاعلیٰ ان مشکل حالات میں خدمات کی فراہمی کے لیے غیر معمولی رابطہ کاری کی صلاحیتوں کے ساتھ اپنی قوتوں کو بروئے کار لائے۔ ڈیجیٹل دنیا سے متعلق علم و فہم پر عبور حاصل ہونے کی وجہ سے انہیں کافی مدد ملی ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اربوں روپے کے احساس پروگرام کی سربراہ کے طور پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو نہ صرف وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے اپنے فلیگ شپ منصوبے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں بلکہ وہ وائرس دوران وفاقی حکومت کی پالیسی کے اہم اجزاء کو بھی آپس میں جوڑنے کا کام بھی انجام دے رہی ہیں تاکہ بہتر طریقے سے لاک ڈاؤن کے دوران آبادی کے کمزور ترین طبقات کو مالی امداد پہنچائی جاسکے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اکثر و بیشتر پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کے زبردست دباؤ کے باوجود اپنی بھرپور قوت، پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ صلاحیتوں سے متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی

صدرِ پاکستان کے پاس بہت ہی کم ایگزیکٹو اختیارات ہیں لیکن کورونا وائرس کے بحران میں صدر عارف علوی نے اس معاملے پر کام کیا جہاں کام کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ انہوں نے شہریوں کو مذہبی اجتماعات اور مساجد میں جانے سے روکنے کے لیے علما کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے متعلقہ فتوؤں کے لیے مصر کی جامعہ الازہر کے حکام سے بھی رجوع کیا۔ ان مشکل وقتوں میں وہ ایک معقول اور حوصلہ بخش آواز بنے ہوئے ہیں۔

میاں شہباز شریف

اگرچہ ان کے پاس کسی قسم کے ایگزیکٹو اختیارات نہیں ہیں لیکن اپنی اعلیٰ گورننس کے لیے جانے پہچانے والے سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب نے بطور قائدِ حزبِ اختلاف اس بحران میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔ لندن سے واپسی کے بعد سے وہ پالیسی آپشنز کی تیاری، مختلف گروہوں کو تقویت پہنچانے اور شہریوں کو درست پیغامات کی فراہمی میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مدد کی پیش کش اور وفاقی سطح پر خراب کارکردگی دکھانے پر تنقید کرنے کے درمیان ایک اچھا توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں ایک نئی توانائی بھی پھونکی ہے۔

سراج الحق

امیر جماعتِ اسلامی نے اس بحران کے دوران بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اقدامات کرکے اپنی مضبوط قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے حکم پر جماعت اسلامی نے چرچوں، مندروں اور گردواروں میں جراثیم کش اسپرے کی مہم چلائی ہے۔ ان کی جماعت نے خطرے میں گھری ہوئی آبادیوں میں راشن بھی تقسیم کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ خواجہ سراؤں کی مدد کے لیے بھی ان کی جماعت آگے بڑھی ہے جو حقیقتاً ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔

مذکورہ بالا خواتین و حضرات ایک ایسے وقت میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لارہے ہیں جب ان کی خدمات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان کی کامیابی ہماری کامیابی ہوگی۔ مگر منزل ابھی دُور ہے۔


یہ مضمون 4 اپریل 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔