چینی بحران کی رپورٹ میں شریف خاندان کی بدمعاشی بے نقاب ہوگئی، فردوس اعوان

05 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں - فوٹو: ڈان نیوز
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں - فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے چینی کے بحران پر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شریف خاندان کی بدمعاشی بے نقاب ہوگئی ہے لیکن ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'پاکستان کی سایسی تاریخ میں ایک اہم باب رقم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ میں دو نہیں ایک پاکستان بنانے کے لیے جدوجہدو کروں'۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ خود احتسابی کا ایسا عمل شروع ہو گا کہ قانون کے سامنے کمزور ہو یا طاقت ور کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'وزیراعظم نے دیکھا کہ آٹا اور چینی کی سپلائی لائن میں مصنوعی بحران پیدا کرکے عوام کی تکالیف میں اضافہ کیا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ انکوائری کرواکے ذمہ داروں کو عوام کے سامنے لاؤں گا اور حقائق عوام سے نہیں چھپاؤں گا'۔

مزید پڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نے آٹے اور چینی کی انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لا کر اپنے وعدے کی تکمیل کی ہے اور یہ عہد کیا کہ خود احتسابی کا عمل خود اپنی صفوں سے شروع کروں گا'۔

وزیراعظم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بھی اس رپورٹ میں جہاں کہیں نشان دہی ہوئی ہے اس پر خود احتسابی کا عمل شروع کردیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میڈیا اور عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 30 سال سے جاری کھیل میں فائدہ حاصل کرنے والے وہ پالیسی بنانے کا حصہ ہوتے تھے، صنعت کار اور سرمایہ دار ان اجلاس میں بیٹھ کر ایسے منصوبے بناتے تھے جس سے ان کو فائدہ پہنچتا تھا'۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ '30 سال سے جو کھیل جاری تھا اس رپورٹ نے اس کا پردہ چاک کردیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'شریف گروپ نے جو بدمعاشی کی اس رپورٹ میں وہ بے نقاب ہوگئی ہے لیکن دو چیزیں اس رپورٹ سے واضح ہوگئی ہیں کہ ہمارے دور میں 3 ارب کی سبسڈی دی گئی اور ڈھائی ارب روپے اس کی مد میں جاری ہوا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے دور میں جو چینی برآمد ہوئی اس سے طاقت ور لوگوں نے فائدہ اٹھایا اب یہ جو سیاست کے اندر ہیں ان کے حوالے سے عوام کی آنکھیں کھولنا ضروری ہے'۔

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ 'پچھلے 4 برس جب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی 22 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی'۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

ان کا کہنا تھا کہ 'شہباز شریف آج بغلیں بجا رہے ہیں اور ان کے ترجمان حکومتی صفوں میں بیٹھے طاقت سر افراد کی طرف نشان دہی کررہے ہیں لیکن عمران خان نے خود احتسابی کا عمل اپنی جماعت سے شروع کردیا ہے'۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'کتنا اچھا ہوتا کہ وہ 22 ارب روپے جو ان کے دور میں سبسڈی کی شکل میں دیا گیا اس میں سے ایک ارب 40 کروڑ روپے شریف خاندان نے سلمان شہباز شریف کے ذریعے لی جو اس رپورٹ میں شامل ہے'۔

شہباز شریف کی زبان پر سلمان شہباز کا نام کیوں نہیں آرہا، معاون خصوصی

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 'مجھے افسوس ہے کہ میڈیا کی اسکرین پر شریف خاندان کا نام ان فائدہ حاصل کرنے والے افراد کے طور نمایاں کیوں نہیں ہورہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کیوں شہباز شریف کی زبان پر سلمان شہباز کا نام نہیں آرہا جو ان کے سپوت اور فرنٹ میں ہیں، اصل بیفشری وہ ہیں اور کب اپنے بیٹے سلمان کو پاکستان بلائیں گے اور انہیں قانون کے حوالے کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج تک پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی کمیشن بنے ان کی رپورٹیں یا تو دبا دی جاتی تھیں یا دفاتر کے اندر لاک کردی جاتی تھیں اور منظر عام پر نہیں آتی تھی لیکن یہ نئے پاکستان اور وزیراعظم کا وعدہ ہے کہ اس کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کیا'۔

یہ بھی پڑھیں:تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف فرد جرم ہے، شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ 'اس رپورٹ میں جو حقائق سامنے آئے ہیں اس کو مزید فرانزک جائزے کے لیے 25 اپریل تک ڈیڈلائن دی گئی ہے اور ایک،ایک شوگر مل میں جاکر کمیشن شوگر کی پیداوار، پیداواری لاگت، گنے کی قیمت خرید اور مل کے مالک کے خرچ اور عوام تک کتنی قیمت میں چینی پہنچتی ہے اور برآمد پر کتنا فیصد کمیشن ہوتا تھا وہ حقائق عوام کے سامنے لائیں گے'۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ 'وزیراعظم کی قیادت میں ایک روڈ میپ بنے گا جس کے تحت جامع پالیسی بنائیں گے کہ عوام کی بنیادی ضرورت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کوئی کھیل یا کھلواڑ نہ ہوسکے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یقیناً اس رپورٹ کی فرانزک کے بعد جن ذمہ داروں کا تعین ہوگا وزیراعظم آئین اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کریں گے اور وہ کارروائی ہوتے ہوئی نظر آئے گی'۔

'آٹا بحران کے ذمہ داروں کو بھی کٹہرے میں لائیں گے'

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'دوسری رپورٹ آٹے کے بحران کے حوالے سے تھی، پاکستان زرعی اجناس میں خود کفیل ہے، اس سے بڑا ظلم اور ناانصافی کیا ہوگی کہ جان بوجھ کر غریب کی زندگی تنگ کردی گئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور انکوائری کا عملی طور پر جائزہ لینے کے بعد تمام ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے'۔

فردوس عاشق اعوان نے آٹا بحران کے حوالے سے کہا کہ 'اس بحران کے ذمہ داروں میں جو بیوروکریٹ، سیاست دان، کسی ادارے کا سربراہ ہے، وزیر یا مشیر اور اس رپورٹ میں جس کی نشان دہی ہوگی اس کے خلاف کارروائی ہوگی'۔

یہ بھی پڑھیں: آٹے کے بعد کس چیز کا بحران آنے والا ہے؟

واضح رہے کہ حکومت نے ملک میں آٹے کے بحران اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی قیمتوں کی انکوائری کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خریداری کی خراب صورتحال کے نتیجے میں دسمبر اور جنوری میں بحران شدت اختیار کرگیا۔

کمیٹی نے کہا کہ سرکاری خریداری کے طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 35 فیصد (25 لاکھ ٹن) کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ میں گندم کی خریداری صفر رہی جبکہ اس کا ہدف 10 لاکھ ٹن تھا اسی طرح پنجاب نے 33 لاکھ 15 ہزار ٹن گندم خریدی جبکہ اس کی ضرورت و ہدف 40 لاکھ ٹن تھا۔

رپورٹ میں سابق سیکریٹری برائے حکومت پنجاب نسیم صادق اور سابق ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر ظفر اقبال کو ان سنگین کوتاہیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا بھی حوالہ دیا گیا جنہوں نے محکمہ خوراک میں دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی اصلاحاتی ایجنڈا وضع نہیں کیا۔

سندھ میں جہاں گندم کا بحران درحقیقت باقی ملک میں پھیلنے سے پہلے ہی شروع ہوا تھا اس ضمن میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبائی حکام اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کرسکی کہ انہوں نے خریداری کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ کوئی بھی طاقتور لابی عوام کے نام پر فائدہ نہیں اُٹھاسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: مزید پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ ’اب وہ کارروائی کرنے سے قبل اعلیٰ اختیارات کے کمیشن کے تفصیلی فرانزک رپورٹ کے منتظر ہیں جو اس ماہ کی پچیس تاریخ کو سامنے آئے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ چینی اور گندم کی قیمتیں اچانک بڑھنے کے حوالے سے ابتدائی رپورٹس کسی ردوبدل کے بغیر فوری طور پر جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ سیاسی قیادتوں میں اپنے ذاتی مفادات ،سمجھوتوں اور اخلاقی جرات میں کمی کی وجہ سے ایسی رپورٹس جاری کرنے کی ہمت نہ تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری اور فروری کے مہینے میں ملک بھر میں گندم اور آٹے کے ساتھ ساتھ چینی کا بحران شدت اختیار کرگیا تھا جس کی وجہ سے اس کی قیمت آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی تھیں اور یہ غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوگیا تھا۔

اس بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی 22 جنوری کو تشکیل پائی تھی جس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اس کے کنوینر تھے۔