جلد لاک ڈاؤن کرتے تو کئی جانیں بچا سکتے تھے، وزیر اعلیٰ سندھ

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں برطانیہ سے آنے والے افراد سے کورونا وائرس پھیلا— فائل فوٹو: ڈان نیوز
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں برطانیہ سے آنے والے افراد سے کورونا وائرس پھیلا— فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر جلد لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو ملک بھر میں وائرس کے پھیلاؤ اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے 13 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد اجلاس میں سندھ حکومت نے جلد سے جلد ملک میں لاک ڈاؤن کی تجویز دی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں متاثرین کی تعداد 3469، اموات 50 ہوگئیں، 257 افراد صحتیاب

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت 15 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیتی تو رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں شریک متاثرہ افراد سے اس کا پھیلاؤ ممکن نہ ہوتا۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت نے 21 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 15 مارچ کو اگر لاک ڈاؤن ہو جاتا تو پورے ملک پر فرق پڑنا تھا، میں جلد لاک ڈاؤن کرنا چاہا رہا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اگر بیرون ملک اور دیگر صوبوں سے لوگ آرہے ہوتے، ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اگر پورے ملک میں یکساں پالیسی ہوتی تو زیادہ اثر ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے بہترین فیصلہ کرنے کے لیے اگر سوچنے میں یا عملدرآمد میں دیر کردی تو اس سے نقصان زیادہ ہو گا بہ نسبت اس کے آپ نے جلدی کام کیا اور سو فیصلے لیے اس میں سے پچاس غلط تھے اس سے آپ کو کم نقصان ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: گیس سپلائی چَین میں سالانہ 2 ارب ڈالر کے نقصان کا انکشاف

سید مراد علی شاہ نے وفاقی صوبائی حکومت کے ایک پیج پر ہونے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ایک قومی سطح کی ٹاسک فورس بنی ہوئی ہے اور تمام صوبے اس کے رکن ہیں، پالیسی تو ایک ہی ہے لیکن عملدرآمد میں کہیں کہیں تھوڑا بہت فرق آ جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق تبلیغی جماعت میں رائیونڈ کے اجتماع سے وائرس پھیلا، اگر 15 مارچ سے لاک ڈاؤن ہو جاتا تو تبلیغی جماعت والے مبلغین رائیونڈ سے نہ نکل پاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس بیرون ملک سے آنے والے افراد کے ذریعے پاکستان میں پھیلا ہے مگر رائیونڈ میں ہونے والے اجتماع میں اس نے مقامی طور پر جس کسی کو متاثر کیا، وہ جب وہاں سے نکلا تو اس نے باقی لوگوں کو بھی متاثر کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب، روس کی ملاقات میں تاخیر، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

مراد علی شاہ کے مطابق صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی لیکن اس سے پہلے ہی تبلیغی جماعت کے کارکن سندھ میں داخل ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں موجود تھے۔

سید مراد علی شاہ کے مطابق جب خدشات بڑھے تو ہم نے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے حیدرآباد میں ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے کچھ مثبت آئے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ایسے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تھی، ان سب سے درخواست کی گئی کہ جہاں جہاں بھی مساجد، مدرسے یا تبلیغی مرکز میں ان کا قیام ہے وہ ادھر ہی رہیں، حکومت کی کوشش ہوگی کہ ان سب کو کھانے پینے کی سہولت فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی ماہرین کی پنجاب میں لاک ڈاؤن میں 28 روز تک توسیع کی تجویز

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پانچ ہزار لوگوں کا ٹیسٹ اتنا آسان نہیں، اس میں 14-15 دن لگ جائیں گے لہٰذا یہ فیصلہ کیا ہے کہ 15 روز ہم انہیں اپنی اپنی جگہ پر آئسولیشن میں رکھیں گے، اگر کسی کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو اس کو فوری طور پر ہسپتال لے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر ہسپتال میں داخل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو زائرین ایران سے بذریعہ سڑک آئے تھے انہیں تو قرنطینہ کر لیا گیا تاہم ہوائی اڈوں پر اترنے والے افراد سے وائرس پھیلا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایران سے بذریعہ تفتان آنے والے زائرین کی تعداد 1300 سے زائد تھی، ان کا ٹیسٹ کیا تو 280 متاثرہ نکلے لیکن جن کے ٹیسٹ منفی آئے تھے انہیں بھی 14 دن رکھا گیا اور سینٹر چھوڑنے سے قبل ان کا دوبارہ ٹیسٹ لیا اور ٹیسٹ دوبارہ منفی آئے تو ہم نے ان کو چھوڑ دیا لہٰذا میں محتاط اندازے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وائرس ان زائرین سے نہیں پھیلا۔

مزید پڑھیں: بچپن میں دی گئی ٹی بی ویکسین کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کررہی ہے، تحقیق

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے بذریعہ ایئرپورٹ آنے والے افراد کا پہلے دن سے خیال کرنا چاہیے تھا لیکن وفاقی حکومت کی ساری توجہ ایران سے آنے والوں پر تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف سندھ میں 67 ایسے متاثرہ افراد ہیں جو بیرون ملک سے آئے ہیں لیکن ان میں سے صرف چھ نے ایران کا سفر کیا جبکہ زیادہ تر برطانیہ سے آنے والے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے لاک ڈاؤن کے فیصلے کو درست اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کا یہی تجربہ ہے کہ اس سے وائرس پھیلنے کی رفتار کم ہوتی ہے کیونکہ یہ وائرس ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی وجہ سے ہی پھیلتا ہے۔

سندھ سمیت پاکستان میں لاک ڈاون 14 اپریل تک جاری رہے گا تاہم وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا وہ فیصلہ جس نے کورونا کے لاکھوں کیسز سے اسے بچالیا

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود ہر شعبے اور صنعت میں کام کرنے والوں کیلئے اصول و ضوابط بنائے جائیں گے اور کورونا کی ویکسین بننے تک اس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ شعبہ صحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اپریل کے وسط اور اختتام تک پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ وائرس کتنا بڑھے گا اس کا درست جواب کسی کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس درست اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستان میں اب تک دنیا بھر کے مقابلے میں انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک بڑی تعداد میں ٹیسٹ نہیں کیے گئے اور جب ٹیسٹ ہوں گے تو ہی اصل اعدادوشمار کا علم ہو سکے گا۔

مزید پڑھیں: 51 برس ساتھ نبھانے والے جوڑے کا کورونا وائرس کے باعث ایک ساتھ انتقال

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہم نے سندھ میں 9 ہزار سے کم ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ ہے، اگر ہم 9 ہزار کی جگہ 90 ہزار ٹیسٹ کرتے تو اس کی گنجائش ہمارے پاس نہیں تھی، ہم نے جب کورونا ٹیسٹ کا آغاز کیا تھا تو پہلے دن گنجائش 80 ٹیسٹ یومیہ تھی لیکن اب یہ 2200 ٹیسٹ یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد یومیہ پانچ ہزار ٹیسٹ کا ہدف حاصل کریں کیونکہ اگر ہمارے پاس ایک لاکھ ٹیسٹوں کے نتائج ہوتے تو ہم بہتر انداز میں اعداد وشمار بتا سکتے تھے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صحت کی مناسب سہولیات کی دستیابی تک ہم اس وائرس پر قابو نہیں پاسکتے، وائرس پر قابو پانے کیلئے ہمیں پوری قوت کے ساتھ صحت کے شعبے میں سہولیات کو بہتر کرنا چاہیے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اعتبار سے سب سے تشویشناک بات کچی بستیاں ہیں کیونکہ یہاں ایک ایک کمرے میں کئی درجن لوگ رہتے ہیں جو ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ قائم کر ہی نہیں سکتے، اگر یہاں یہ وائرس آ گیا تو صورتحال انتہائی تشویش ناک ہو گی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس ہر گزرتے دن کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک 3ہزار 469 افراد متاثر جبکہ 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔