گیس سپلائی چَین میں سالانہ 2 ارب ڈالر کے نقصان کا انکشاف

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعظم کے انسپیکشن کمیشن نے متعدد ٹرانسفر پوائنٹس پر گیس لیکیج، چوری اور غلط پیمائش کی بھی نشاندہی کی ۔ فائل فوٹو:ڈان
وزیر اعظم کے انسپیکشن کمیشن نے متعدد ٹرانسفر پوائنٹس پر گیس لیکیج، چوری اور غلط پیمائش کی بھی نشاندہی کی ۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: وزیر اعظم کے انسپیکشن کمیشن (پی ایم آئی سی) نے انکشاف کیا ہے کہ پالیسی سازی، انضباطی اور آپریشنل کاموں کی ہر سطح پر بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے قدرتی گیس کی سپلائی چَین میں سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جانے والی اپنی حتمی رپورٹ میں پی ایم آئی سی نے متعدد ٹرانسفر پوائنٹس پر گیس لیکیج، چوری اور غلط پیمائش کی نشاندہی کی جو پالیسی بنانے اور ناقص ریگولیٹری عمل پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ گیس سپلائی کے دو ادارے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے گیس کے نقصانات کی گمراہ کن اور مختصر تشریح سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے درآمدی ٹرمنلز سے گیس فیلڈ یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) انجیکشن کے آغاز سے آخری صارف تک ان اکاؤنٹڈ فار گیس (یو ایف جی) کا ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔

مزید پڑھیں: گیس کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی، ریونیو ہدف کم کرنے کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن نیٹ ورک کے آغاز، گیس فیلڈ یا ایل این جی ٹرمینلز سے قبل ہی بہت زیادہ گیس کا نقصان ہو رہا ہے، مثال کے طور پر گیس فیلڈ یا ایل این جی ٹرمینلز پر اگرچہ پورے سپلائی سسٹم میں نقصانات، غلط بلنگ اور پیمائش پہلے ہی وسیع پیمانے پر موجود تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سوئی گیس کمپنیوں میں یو ایف جی نقصانات 13 فیصد رہے ہیں جو گیس کی غلط یا پیمائش نہ ہونے یا گیس سپلائی اور پروڈکشن کمپنیوں کی جانب سے گیس کے سسٹم میں ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو درست اور مکمل طور پر نہ بتانے کی وجہ سے تھے جبکہ بین الاقوامی سطح پر پائپ لائن آپریٹرز کو 0.5 فیصد سے 5 فیصد سے کم تک یو ایف جی کی اجازت ہے (تاہم) ’پاکستان میں یو ایف جی بہت زیادہ سطح پر پوری گیس سپلائی چین میں موجود ہے جسے جزوی طور پر قانونی اجازت دی جاتی ہے اور جزوی طور پر جان بوجھ کر مبہم پیمائش اور یونٹ کے ذریعے چھپایا جاتا ہے‘۔

پی ایم آئی سی کا کہنا تھا کہ خام گیس کی پیمائش زیادہ تر گیس فیلڈز پر نہیں ہورہی، مزید یہ کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اپ اسٹریم ریگولیٹر ڈائریکٹریٹ جنرل برائے پیٹرولیم مراعات (ڈی جی پی سی)، گیس کی مقدار، لیکیجز، ضائع ہونا، پروسیسنگ پلانٹز میں داخلی تضادات اور پائپ لائنوں میں جمع ہونے سے غافل رہے۔

رپورٹ کے مطابق ایل این جی کی درآمدات میں ری گیسفیکیشن کا بھی یہی حال ہے جہاں آر ایل این جی آپریشنز کے 4 سال گزرنے کے باوجود ری گیسفیکیشن ٹرمینلز سے گیس کا ضیاع یا استعمال ایک راز ہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ’گیس سپلائی چین کے مابین توانائی پر مفاہمت کی عدم موجودگی کی وجہ سے پوری گیس سپلائی چَین کو اپنی مرضی سے گیس ضائع کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے پہلے ہی متعدد معاشی اثرات سے دوچار ملک کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے‘۔

پی ایم آئی سی نے بتایا کہ نصف صدی سے آپریشنل بزنس میں رہنے کے باوجود، یو ایف جی کو کنٹرول کرنے کے معاملے میں گیس کے ادارے بے خبر تھے۔

یہ بھی پڑھیں: گیس کی قیمتوں میں اضافہ مؤخر، ترک کمپنی کے پورٹ چارجز معاف

مزید یہ کہ 17-2016 میں ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کے ذریعے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ضائع شدہ گیس کی مقدار کا دعویٰ بالترتیب 23 ارب روپے مالیت کی 68 ارب 40 کروڑ مکعب فٹ اور 11 ارب روپے مالیت کے 36 بی سی ایف تھا۔

مالیت کے یہ نقصانات 5.32 بی سی ایف کے اندرونی طور پر استعمال شدہ گیس (جی آئی سی) سے زیادہ ہے اور اس کی قیمت ایک ارب 70 کروڑ روپے ہے۔

مالی سال 17-2016 میں 36 ارب روپے کی 110 بی سی ایف پائپ لائن کوالٹی گیس (جو دونوں گیس کمپنیوں کی جانب سے خریدی گئی مجموعی گیس کا تقریبا 12 فیصد بنتی ہے) پروسیسڈ گیس کی ترسیلی پوائنٹس سے صارفین تک پہنچائے جانے کے دوران غائب ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’درآمد شدہ آر ایل این جی کی مساوی مقدار 11 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کے حساب سے، اس خسارے کی قیمت تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تھی‘۔

اس کے علاوہ پی ایم آئی سی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایل این جی کی درآمد کے مقابلے میں جب ایس ایس جی سی ایل پائپ لائن میں فراہم کی جانے والی آر ایل این جی مقدار دیکھی گئی تو وہ نمایاں طور پر (7.25 فیصد تک کم) تھی۔

نیز کمیشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ بظاہر ڈائریکٹر جنرل گیس کے ہر اقدام سے گیس کمپنیوں بشمول آر ایل این جی کے معاملے میں حصص رکھنے والوں کے منافع کی حفاظت ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور عالمی بینک نے گیس کی چوری اور نقصانات پر کنٹرول کے حوالے سے گیس کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے 19 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وزارت توانائی اور گیس کمپنیوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: عوام پر گیس کی مد میں اضافی بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’بد قسمتی سے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن میں یو ایف جی کے مسئلے کی تکنیکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے جبکہ سینئر افسران گیس کمپنیوں کے بورڈز اور یو ایف جی کمیٹیوں میں رہتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ بڑے معاوضے حاصل کرتے ہیں‘۔

پی ایم آئی سی نے مشاہدہ کیا کہ وزارت توانائی نے گیس کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کام کیا ہے اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی طرف سے پالیسی گائیڈ لائنز کی سہولت فراہم کی جو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے تناظر میں اوگرا آرڈیننس کے خلاف تھیں، خاص طور پر یہ معاملہ آر ایل این جی کی قیمت کے نوٹیفکیشن میں یو ایف جی کو سنبھالنے کے ساتھ گیس کمپنیوں کی حتمی آمدنی کی ضروریات سے متعلق تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ کافی نہیں تھا، (چونکہ) اوگرا کا کردار ایک آزاد اور محتاط ریگولیٹر کے متوقع طرز عمل سے بہت نیچے رہا، 'اس نے نہ صرف حکومت کی باقاعدہ پالیسی گائیڈ لائنز کی تعمیل کی جو اوگرا قانون سے متصادم ہیں بلکہ اس نے قواعد و ضوابط کی تشکیل کے ذریعہ بڑی الجھن پیدا کردی ہے جو قوانین کے متضاد ہیں‘۔

اس سے بھی بڑھ کر، گیس کے پانچ شعبوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد سب سے پہلے جون 2017 میں اپ اسٹریم کے شعبے کی کارکردگی اور یو ایف جی کنٹرول کے لیے ڈی جی پی سی کا کردار پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا تاہم ڈی جی پی سی کی جانب سے شروع کی جانے والی اصلاحی کوششیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر دسمبر 2017 میں اچانک روک دی گئیں۔

پی ایم آئی سی نے وزیر اعظم کو سفارش کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت کریں کہ وہ اس قانون سے مطابقت نہ رکھنے والی اوگرا کو دی جانے والی پالیسی گائیڈ لائنز سے فوری طور پر جان چھڑائیں اور چوری، لیکیج کنٹرول پروگرام کی بحالی کے لیے عالمی بینک کے ساتھ مشغول ہوں اور تمام پیمائش، تعریفی اور ریگولیٹری بے ضابطگیوں کو ختم کریں۔