امریکا نے جرمنی کے ماسک سے لدے جہاز کو روکنے کا الزام مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

بے بنیاد خبروں سے عالمی کوششوں کو تقسیم کرنے کی کوشش پر تشویش ہے—فائل/فوٹو:ڈان
بے بنیاد خبروں سے عالمی کوششوں کو تقسیم کرنے کی کوشش پر تشویش ہے—فائل/فوٹو:ڈان

تھائی لینڈ میں قائم امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ جرمنی کی جانب سے ان کے حفاظتی ماسک سے لدے جہاز کو بنکاک ایئرپورٹ پر روکنے کے الزام سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بنکاک میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان جیلیان بونارڈیوکس کا کہنا تھا کہ 'امریکی حکومت نے جرمنی جانے والی میڈیکل کی اشیا کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح کے جہاز کے بارے میں علم ہے'۔

امریکی سفارت کار کی جانب سے یہ بیان جرمنی کے سیکریٹری داخلہ ایندریاس گیسل کی جانب سے چند روز قبل دیے گئے بیان کے ردعمل میں دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: اتحادیوں کا امریکا پر طبی درآمدات روکنے کا الزام

جرمن سیکریٹری داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 2 لاکھ حفاظتی ماسک لے کر جرمنی آنے والے جہاز کو بنکاک کے ایئرپورٹ پر روک کر اس کو امریکا بھیج دیا گیا جو بددیانتی ہے۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ 'ہمیں غیر مصدقہ خبریں اور بے بنیاد مہم کے ذریعے بین الاقوامی کوششوں کو تقسیم کرنے کی کوشش پر تشویش ہے'۔

خبر ایجنسی کے مطابق تھائی لینڈ کے حکام سے اس حوالے سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن تعطیل کے باعث ممکن نہ ہوا۔

خیال رہے کہ جرمنی کی جانب سے ماسک لے جانے والے جہاز کا رخ بدلنے کا الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے تمام ممالک کورونا وائرس کے خلاف ہر ممکن حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔

یورپ اور جنوبی امریکا میں موجود امریکی اتحادیوں نے اس کو مغرب سے نفرت سے تعبیر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ واشنگٹن نے صحت سے متعلق برآمدات کو مارکیٹ میں رائج قیمت سے زائد قیمت کی ادائیگی کی پیش کش کرکے ان کے آرڈرز کو منسوخ کروا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں کورونا کے مریض 13 لاکھ کے قریب، ہلاکتیں 69 ہزار سے زائد

فرانس اور جرمنی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکا ماسک پیدا کرنے والے سرفہرست ملک چین سے میڈیکل گریڈ کے ماسک کی خریداری کے لیے مارکیٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بڑی پیشکش کرکے نیلامی حاصل کر رہا ہے جبکہ یورپی خریداروں کا ماننا ہے کہ معاہدے ہوچکے ہیں۔

برازیل کے وزیر صحت نے بھی اسی طرح کے الزامات دہرائے ہیں۔

جرمن حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ 'امریکی بہت زیادہ پیسہ لیے متحرک ہیں'۔

امریکا میں قائم ملٹی نیشنل کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے کینیڈا اور لاطینی امریکا کو اپنی برآمد روکنے کا حکم دیا ہے جبکہ کمپنی نے کہا کہ 'ان اشیا کا انسانی بنیادوں پر خاص اثر ہے'۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے برآمدات روکنا ایک غلطی ہے جو ناکام ہوجائے گی جبکہ ملک کا صحت کا نظام روزانہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔

امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس ہفتے امریکی کمپنیاں اور حکومت درآمدات کے لیے مارکیٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہی ہے۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اس وقت تک خریداری جاری رکھے گا جب تک ہمارے پاس تعداد کافی نہیں ہوجاتی اور رواں برس اگست تک ان اشیا کی تلاش جاری رہ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین میں سامنے آنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 12 لاکھ 74 ہزار 923 افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 69 سے زائد ہلاک جبکہ 2 لاکھ 60 ہزار 484 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

امریکا کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک جہاں متاثرین کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور صرف نیویارک میں متاثرین ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئے ہیں، امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد بھی 9 ہزار 650 تک جا پہنچی تھی۔