آئی سی یو میں داخل برطانوی وزیراعظم کی صحت بہتر ہے، ترجمان

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

بورس جانسن کو اتوار کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا—فوٹو:اے پی
بورس جانسن کو اتوار کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا—فوٹو:اے پی

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث آئی سی یو میں داخل وزیراعظم کی صحت بہتر ہے جبکہ وہ وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں تاہم انہیں آکسیجن دیا جارہا ہے۔

خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن کے ترجمان جیمز سلیک کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم کی طبیعت گزشتہ رات کے مقابلے بہتر ہے اور اچھی حالت میں ہیں، انہیں آکسیجن دیا جارہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم کسی اور چیز کے سہارے کے بغیر سانس لے رہے ہیں تاہم آکسیجن دیا جارہا ہے'۔

مزید پڑھیں:برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل

جیمز سلیک نے کہا کہ 'بورس جانسن کو نہ تو مصنوعی سانس فراہم کی جارہی ہے اور نہ ہی مصنوعی سانس کے لیے کوئی مدد دی جارہی ہے'۔

تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

خیال رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو گزشتہ روز حالت خراب ہونے پر سینٹ تھامس ہسپتال کے انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں داخل کرکے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

بورس جانسن کورونا وائرس کا شکار ہونے والے دنیا کے پہلے حکمران بن گئے تھے جب گزشتہ ہفتے ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری (وزیرخارجہ) ڈومینک راب نے بورس جانسن کو آئی سی یو منتقل کیے جانے کے بعد وزیر اعظم کی کئی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں جبکہ برطانیہ کے نظام میں نائب وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔

ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ہسپتال میں ہونے کے باوجود حکومت کا انتظام چلتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بورس جانسن نے انہیں ہدایت کی تھی کہ کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے جہاں ضرورت ہو وہاں حکومتی کام کو آگے بڑھائیں۔

بورس جانسن کی صحت کے حوالے سے کابینہ آفس کے وزیر مائیکل گوو کا کہنا تھا کہ جانسن کو سینٹ تھامس ہسپتال کی ٹیم کی جانب سے بہترین علاج فراہم کیا جارہا ہے، ہماری دعائیں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے متجاوز، کیسز 13 لاکھ سے زائد

خیال رہے کہ مائیکل گوو بھی آئسولیشن میں ہیں کیونکہ ان کے اہل خانہ کے کسی فرد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم سب چاہتے ہیں وہ جلدی ٹھیک ہوکر باہر آجائیں، وہ ہمارے ملک کے رہنما ہیں، وہ بڑے دل کے آدمی ہیں جس کا عوام کی خدمت پر یقین ہے'۔

یاد رہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کو 27 مارچ کو کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ان کے ڈاؤننگ اسٹریٹ فلیٹ میں آئی سولیشن میں رہنے کے بعد اتوار کے روز ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 'آج سہ پہر وزیر اعظم کی حالت خراب ہوگئی اور اپنی طبی ٹیم کے مشورے پر انہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کردیا گیا۔

بورس جانسن کی صحت بگڑنے کی خبر سن کر کئی عالمی رہنماؤں نے تشویش اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'تمام امریکی ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں'۔

وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 'وہ بہت اچھے دوست ہیں، وہ مضبوط اور آسانی سے شکست ماننے والے نہیں ہیں'۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے بورس جانسن کے تمام ڈاکٹروں سے رابطہ کیا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا حالات بنتے ہیں لیکن ہمارے ڈاکٹر ان کی مدد کو جانے کے لیے تیار ہیں۔

فرانس کے صدر یمانوئیل میکرون نے کہا کہ ہم جانسن، ان کے اہل خانہ اور انگلینڈ کے عوام کے اس برے وقت میں ان کے ساتھ ہیں میں ان کے لیے دعا گوہ ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے پیغام میں بورس جانسن کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کے اب تک 52 ہزار 302 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 5 ہزار 385 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

کوروناوائرس سے اب تک تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ 75 ہزار 973 افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔