آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اسٹاک سے گریزاں، ریفائنریز بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئیں

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

حکومت نے اوگرا سے کہا کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرے—فوٹو: پیٹرولیم ڈویژن
حکومت نے اوگرا سے کہا کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرے—فوٹو: پیٹرولیم ڈویژن

اسلام آباد: گندم کی کٹائی کے سیزن کے دوران حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے ان تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو ریفائنریوں سے پٹرولیم مصنوعات کو اٹھانے سے گریزاں ہیں جس کے نتیجے میں سپلائی میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ملک میں 80 سے زیادہ او ایم سی کام کررہے ہیں لیکن سست فروخت اور کم قیمتوں کے پیش نظر انوینٹری نقصانات سے بچنے کے لیے ان میں سے کوئی بھی اپنا لازمی ذخیرہ برقرار نہیں رکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں: یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 10 ارب روپے جاری

انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں سرکاری سطح پر چلنے والے پاکستان اسٹیٹ آئل پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے جس کے باعث ملک بھر میں مختلف مقامات پر اپنے لازمی اسٹاک کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

علاوہ ازیں چھوٹے او ایم سی کی صورت حال دیہی علاقوں میں زیادہ واضح ہے جہاں گندم کی کٹائی اپنے عروج میں داخل ہوچکی ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ مذکورہ حالات میں کسانوں کے لیے نقل و حمل اور گوداموں تک براہ راست رسائی حاصل کرنا مشکل ہورہی ہے، اس کے نتیجے میں مڈل مین کسانوں سے تیار کردہ گندم حکومت کے مقرر کردہ قیمتوں سے کم قیمت پر خریدتے ہیں۔

حکومت نے اوگرا سے کہا کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرے اور تمام او ایم سی پر اسٹاک کی لازمی شرائط نافذ کرے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے ریگولیٹرز کو ایک پالیسی نوٹ کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باوجود یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی زیادہ فروخت دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے 5 ماہ کا اضافی وقت مل گیا

اس میں کہا گیا کہ ’سوائے پاکستان اسٹیٹ آئل کے او ایم سی میں سے کوئی بھی اطمینان بخش اسٹاک نہیں لے رہا، خاص طور پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی)، مزید یہ کہ مالی فائدہ / نقصان کی وجہ سے او ایم سی اپنی مصنوعات کو ریفائنریوں سے نہیں اٹھا رہے ہیں‘۔

اس کے نتیجے میں ’اٹک ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور پاک عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) بند ہونے کے دہانے پر ہیں جب کہ نیشنل ریفائنری اور بائکو پٹرولیم ریفائنری نے اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

ایک عہدیدار نے مزید بتایا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ریفائنریوں کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پوری ہے لیکن انہوں نے اپنے آپریشنز روکے رکھے ہیں لیکن او ایم سی لائسنسنگ اور مارکیٹنگ کے قواعد کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے ریگولیٹر کو مشورہ دیا کہ مذکورہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ کٹائی کے سیزن کے دوران ملک میں ایچ ایس ڈی کی قلت کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’لہذا بدترین صورتحال سے بچنے کے لیے اوگرا کے ضابطہ کار سے درخواست کی گئی کہ وہ او ایم سی کی کارکردگی کی نگرانی کریں اور انہیں اپنے ڈپووں میں 20 دن کا لازمی اسٹاک برقرار رکھنے کی ہدایت کریں۔

مزیدپڑھیں: ’جو تاجر پہلے لوگوں کی مدد کرتے تھے، وہ اب خود محتاج ہوگئے ہیں‘

عہدیداروں نے بتایا کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی کھپت میں بالترتیب 60 اور 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ایس ڈی کے استعمال سے پٹرول سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ایک معروف پیٹرول اسٹیشن جو عام دنوں میں 30 ہزار لیٹر پیٹرول فروخت کرتا تھا اب وہ 8 ہزار لیٹر پیٹرول فروخت کررہا ہے جبکہ اس کی ایچ ایس ڈی کی فروخت 15 ہزار لیٹر سے گھٹ کر 200 لیٹر تک یومیہ رہ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں بڑی ریفائنریز یا تو بند ہوگئیں یا صرف 30 فیصد تک اپنی صلاحیت بروئے کار لا رہی ہیں کیونکہ ان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پوری ہے اور او ایم سی فروخت نہ ہونے کے سبب پٹرولیم مصنوعات اٹھانے سے گریزاں ہے۔

بائیکو ریفائنری اور پاکستان ریفائنری پہلے ہی بند ہوچکی ہیں جبکہ اٹک ریفائنری تقریباً 20 فیصد صلاحیت سے کام کررہی ہے اور اس ہفتے کے آخر تک یہ کام روک سکتا ہے۔

اس ضمن میں کہا گیا کہ پارکو ریفائنری بھی فی الحال کم سے کم سطح پر کام کررہی ہے۔