عمر اکمل اسکینڈل: پی سی بی نے معاملہ چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کردیا

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

عمر اکمل کا معاملہ اب ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل
عمر اکمل کا معاملہ اب ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل

عمر اکمل کی جانب سے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے سماعت کی درخواست نہ کیے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مڈل آرڈر بلے باز کا معاملہ چیئرمین ڈسپلنری پینل کے سپرد کر دیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں سیزن کے آغاز سے قبل معطل کیے گئے عمر اکمل کو بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی 2 مرتبہ خلاف ورزی پر چارج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: تنازعات میں گھرے عمر اکمل کے کیریئر پر ایک نظر

عمر اکمل سے معاملے پر 14دن کے اندر جواب طلب کیا گیا تھا جس پر مڈل آرڈر بلے باز نے جواب بھی جمع کرا دیا تھا۔

عمر اکمل کی جانب سے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے سماعت کی درخواست نہ کیے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے معاملے کو ڈسپلنری کورٹ کے چیئرمین اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج فضل میراں چوہان کو بھیج دیا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بورڈ نے یہ فیصلہ عمر اکمل کے جواب کے تمام مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے جس میں پی سی بی انٹی کرپشن کوڈ کے تحت اینٹی کرپشن ٹربیونل کے سامنے سماعت کے لیے تحریری درخواست نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل معطل، پی ایس ایل سے باہر

کوڈ کے آرٹیکل 4.8.1 کے تحت چیئرمین ڈسپلنری پینل اب نوٹس آف چارج میں مخصوص جرائم کی تصدیق کرتے ہوئے پابندی سے متعلق فیصلہ سنائیں گے۔

چیئرمین ڈسپلنری پینل کی جانب سے فیصلہ آنے تک پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ یہ آرٹیکل کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجیلنس اینڈ سیکی ورٹی ڈیپارٹمنٹ کو (بغیر کسی غیر ضروری تاخیر سے) آگاہ نہ کرنے سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 4.8.1 کے تحت ان حالات میں اینٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کے بجائے ڈسپلنری پینل کے چیئرمین نوٹس آف چارج کا جائزہ لینے کے بعد ایک عوامی فیصلہ جاری کریں گے جس میں جرم کی توثیق کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: عمر اکمل پر اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی کا الزام، 14 دن میں جواب طلب

اس فیصلے کو جاری کرنے سے قبل چیئرمین ڈسپلنری پینل قومی کرکٹ فیڈریشن، متعلقہ فریق، پی سی بی کے ویجیلنس اینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور آئی سی سی کو تحریری نوٹس جاری کریں گے۔

آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر 2 ماہ سے تاحیات پابندی تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

عمر اکمل کو پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنا تھی لیکن معطلی کے سبب ان کی لیگ سمیت ہر طرح کے کرکٹ مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کو عمر اکمل کا جواب موصول، سزا میں کمی متوقع

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پی سی بی کی جانب سے عمر اکمل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہو بلکہ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں۔

معطلی سے چند دن قبل بھی عمر اکمل نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تنازع کا شکار ہوئے تھے اور اس موقع پر ان کے بھائی کامران اکمل بھی ساتھ موجود تھے۔

عمر اکمل اور ان کے بھائی کو فٹنس ٹیسٹ کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں طلب کیا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہوں نے عملے سے بدتمیزی کی تھی۔

مزید پڑھیں: عمر اکمل کے ساتھ تنازع غلط فہمی کے نتیجے میں سامنے آیا، پی سی بی

رپورٹس کے مطابق ٹیسٹ کے دوران عمر اکمل آپے سے باہر ہوگئے تھے اور عملے سے بدتمیزی کی تھی جس کے بعد ان کی اگلے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں شرکت پر پابندی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے بلے باز عمر اکمل اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے عملے کے درمیان سامنے آنے والے تنازع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ 'غلط فہمی' کی وجہ سے سامنے آیا۔