کورونا سے یورپی یونین کی ناکامی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اطالوی وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا— فوٹو: رائٹرز
اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا— فوٹو: رائٹرز

اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران اور بڑھتی ہوئی اموات کے سبب یورپی یونین کی ناکامی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

کونٹے نے کہا کہ یورپی یونین کو وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی مدد کے لیے مناسب اور مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ریاض کے گورنر سمیت سعودی شاہی خاندان کے 150 افراد کورونا میں مبتلا؟

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے بڑا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا ہوں گے۔

یہ بیان ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک نے کنجوس ممالک سے قرض کی مد میں 'کورونا بونڈ' کے اجرا کا مطالبہ کیا ہے جس کی ادائیگی میں تمام یورپی ممالک مدد کریں گے لیکن نیدرلینڈز نے تجویز کی مخالفت کی ہے جسے یورپی یونین کے وزرائے خزانہ میں بدمزگی ہو ئی ہے۔

کورونا سے متاثرہ ممالک کے لیے 500 ارب یورو کے امدادی پیکج کے لیے یونین کے وزرائے خارجہ کے درمیان جاری رہنے والی 165 گھنٹے کی گفتگو بے نتیجہ ختم ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ کے بعد جاپان، بھارت میں بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ

اطالوی وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایک ایسے تاریخی موقع کا سامنا ہے جس کو ہمیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اگر ہم نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو یونین کی ناکامی کا خطرہ حقیقت بن جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ یورپ کی بقا کیلئے بڑا چیلنج ہے، اگر یورپ جنگ عظیم دوئم کے بعد درپیش سب سے بڑے چیلنج کے لیے کوئی مناسب مانیٹری اور مالیاتی پالیسی بنانے میں ناکام رہتا ہے تو صرف اطالوی ہی نہیں بلکہ تمام یورپی شہری مایوسی کا شکار ہوں گے۔

خیال رہے کہ اٹلی میں اب تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اب تک وائرس سے 17 ہزار 700 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 40 ہزار متاثر ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے خلاف جنگ مل کر جیتیں گے، نریندر مودی کا ڈونلڈ ٹرمپ کو پیغام

البتہ اب اٹلی میں وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے اور گزشتہ دن کے مقابلے میں اس شرح میں ایک فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے کیسز میں روزانہ کی بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ہو رہا تھا۔

گوکہ اٹلی میں اب بھی سیکڑوں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں لیکن اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے جہاں 15دن قبل ایک دن میں 919 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن گزشتہ روز اموات کی تعداد 542 تھی۔

اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا کہ کیسز اور اموات میں کمی ہونے کے باوجود ہم حفاظتی اقدامات میں کمی نہیں کریں گے اور لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان شعبوں کو منتخب کرنا ہو گا جو اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر سکیں، اگر سائنسدان اور ماہرین تصدیق کرتے ہیں تو ہم اس ماہ کے آخر تک پابندیوں میں کچھ نرمی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی دوا کا تجربہ جانوروں کے بجائے قیدیوں پر کیا جائے، سعودی اداکارہ

وائرس سے بہترین انداز میں نمٹنے پر اٹلی کے وزیراعظم گوئسیپ کونٹے کی کاوشوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہ پابندیاں نہیں لگاتے تو اموات کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر سکتی تھی البتہ چند ناقدین ابتدا سے ہی زیادہ مؤثر اقدامات نہ کرنے پر ابھی تک ہونے والی اموات کا ذمے دار بھی کونٹے انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔

اٹلی میں ابتدائی طور پر وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے لمبارڈی کے چند سیاستدانوں نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی تھی لیکن مارچ کے وسط میں میلان آنے والے چینی ریڈا کراس کے نمائندوں نے ناقص لاک ڈاؤن پر اٹلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خطرناک نتائج سے خبردار کیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن میں نمایاں طور پر سختی نظر آئی۔

تاہم اٹلی کے وزیر اعظم نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نظام چین سے بہت مختلف ہے، ہمارے لیے آزادی اظہار رائے کے قانونی حق کو محدود کرنا آسان نہ تھا اور ہمیں اس بات کا انتہائی خیال رکھنا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے 4479 افراد متاثر، 500 سے زائد صحتیاب

انہوں نے کہا کہ 'جب ابتدا میں چند کیسز سامنے آئے اگر میں اس وقت آغاز میں ہی آئینی حقوق کو محدود کرنے یا لاک ڈاؤن کی تجویز دیتا تو لوگ مجھے پاگل سمجھتے'۔

اٹلی نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں وائرس سے متاثرہ افراد کے سامنے آنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے دیگر مغربی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ اور انتہائی تیزی سے ٹیسٹ کیے۔

برطانیہ میں اس وقت اوسطاً روزانہ 14ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اٹلی میں روزانہ کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد اوسطاً تقریباً 50 ہزار ہے۔

اٹلی میں طبی عملہ بھی وائرس سے بری طرح متاثر ہوا اور 100 ڈاکٹرز ہلاک اور ہزار سے زائد وائرس سے متاثر ہوئے۔

اس وائرس پر قابو پانے میں چین، کیوبا اور روس نے اٹلی کو طبی آلات کی فراہمی میں بہت مدد کی۔

یہ بھی پڑھیں: بل کلنٹن و مونیکا کا اسکینڈل سامنے لانے والی خاتون چل بسیں

روس کی جانب سے طبی آلات جس طیارے میں بھیجے گئے اس پر 'انتہائی محبت کے ساتھ روس کی طرف سے' کے الفاظ لکھے ہوئے تھے جبکہ روس کے سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک فوٹیج چلائی تھی جس میں ایک اطالوی شخص کو یورپی یونین سے روس کا جھنڈا تبدیل کررہا تھا۔

جب کونٹے سے پوچھا گیا کہ کیا روس نے اس امداد کے ساتھ کچھ شرائط عائد کی ہیں، تو انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتیں مجھے غصہ دلا دیتی ہیں، یہ اطالوی حکومت اور روسی صدر ویلاد میر پیوٹن دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔