پاکستان کا افغانستان سے داعش خراسان کے لیڈر کی حوالگی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

افغان حکام کی جانب سے عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی کی جاری کی گئی تصویر — تصویر بشکریہ این ڈی ایس
افغان حکام کی جانب سے عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی کی جاری کی گئی تصویر — تصویر بشکریہ این ڈی ایس

پاکستان نے افغانستان سے دولت اسلامیہ (داعش) خراسان کے لیڈر اسلم فاروقی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلم فاروقی کو افغان حکام نے 5 اپریل کو گرفتار کیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں افغانستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس گروپ کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جو پاکستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ اسلم فاروقی افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اس لیے اسے مزید تحقیقات کے لیے پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو اس سلسلے میں پاکستان کے مؤقف سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت دہشت گردی کے خلاف مربوط اقدامات کرنے چاہیئیں۔

مزید پڑھیں: کابل گوردوارے پر حملہ: بھارتی میڈیا کی پاکستان سے متعلق 'شر انگیز' رپورٹس مسترد

واضح رہے کہ افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹوریٹ سیکیورٹی (این ڈی ایس) نے اسلم فاروقی، جنہیں عبداللہ اورکزئی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو گرفتار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گوردوارہ میں ہونے والے حالیہ حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔

کابل میں سکھوں کے گوردوارے میں 25 مارچ کو ہونے والے حملے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے، حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب لوگ گوردوارے میں صبح کی عبادت میں مصروف تھے۔

حملے کی ذمہ داری داعش کے افغانستان گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان نے بھارتی میڈیا میں گردش کرنے والی ان رپورٹس کو مسترد کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ گوردوارے میں ہونے والے حملے میں پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں ملوث ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کابل میں گردوارہ پر حملہ، 25 افراد ہلاک

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں این ڈی ایس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلم فاروقی کے پاکستان کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے تعلقات ہیں۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسلم فاروقی کے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ سے 'قریبی تعلقات' ہیں۔

ان الزامات پر دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ہم بھارتی میڈیا میں 'سرکاری طور پر متاثر کن رپورٹس' کو مسترد کرتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اسے 'شرانگیز' اور قابل مذمت قرار دیا تھا۔