ایبٹ آباد کے ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں پر دوا کی آزمائش

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

ہائیڈرو اوکسی کلورو کوئن کی کووڈ 19 پر تاثیر کے نام سے اس ٹرائل کو امریکا کی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے منظور کیا تھا - اے ایف پی:فائل فوٹو
ہائیڈرو اوکسی کلورو کوئن کی کووڈ 19 پر تاثیر کے نام سے اس ٹرائل کو امریکا کی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے منظور کیا تھا - اے ایف پی:فائل فوٹو

پشاور: امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں قائم ایوب میڈیکل کالج اور ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی جانب سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج ڈھونڈنے کے لیے ادویات کی آزمائش کرنے کی پیشکش منظور کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’ہائیڈرو اوکسی کلورو کوئن کی کووڈ 19 پر تاثیر‘ کے نام سے اس آزمائش کو امریکی قومی لائبریری آف میڈیسن برائے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے گزشتہ ماہ منظور کیا تھا تاکہ مختلف ادویات سے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کو دیکھا جاسکے۔

ایوب میڈیکل کالج (اے ایم سی) کے ڈین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایوب ٹیچنگ ہسپتال (اے ٹی ایچ) ایبٹ آباد کے پروفیسر عمر فاروق، جو اس ٹرائل کی سربراہی کریں گے، نے کہا کہ انہوں نے کام شروع کردیا ہے اور انہیں کامیابی کی اُمید ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت، چینی ماہرین کی تجاویز کے برعکس ہوم آئیسولیشن کی ہدایات

پروفیسر عمر نے کہا کہ اس ٹرائل کا مقصد صرف ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن یا ایزتھریومائسن کے ساتھ، کورونا وائرس کے سنگین اور کم علامات والے مریضوں پر آزما کر اس کی تاثیر کو تلاش کرنا ہے۔

یہ بیماری خطرناک حد تک لوگوں کی جان لے رہی ہے اور اس وقت اس کی 23 کے قریب آزمائشیں جاری ہیں اور وبا کے مرکز چین کے ووہان سے کچھ حوصلہ افزا نتائج ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے اس دوا کو ملیریا کے علاج کے لیے منظوری دی گئی تھی تاہم کورونا وائرس کے علاج میں اس کا مؤثر ہونا ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وجہ سے امریکا اور بھارت سمیت متعدد ممالک بشمول چین جہاں سے یہ وائرس پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا، میں یہ ٹرائلز چل رہے ہیں۔

صحت عامہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے پروفیسر عمر نے کہا کہ یہ بیماری نئی تھی لہذا کورونا وائرس کے مریضوں اور ان کے علاج پر قریبی نگرانی کرنے اور ادویات کی تاثیر جاننے کے لیے تحقیق کی جارہی ہے۔

چین میں وبائی بیماری پھیلنے کے فورا بعد ہی دنیا بھر سے کورونا وائرس کے علاج کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

اس بیماری کی وجہ سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پروفیسر عمر نے کہا کہ ’ابھی تک اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہماری آزمائش کامیاب ہوگی اور پاکستان میڈیسن کی تاریخ میں یاد رکھا جانے والا ملک بن جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'گریٹ ڈپریشن' کے بعد سے دنیا کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے، آئی ایم ایف

ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کے ایک گروپ کو دو ادویات کا مجموعہ دیا جائے گا جن میں ہائیڈرواوکسی کلوروکوئن اور ایزتھرمائسن شامل ہیں جب کہ دوسرے گروپ کو صرف ہائڈرواوکسی کلوروکوئن دی جائے گی اور تیسرا گروپ روایتی طریقہ کار سے علاج سے گزرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم آزمائش میں شامل ہر مریض کی رضامندی لے رہے ہیں اور انہیں تحقیق سے آگاہ کر رہے ہیں، مریضوں کے دستخطوں کے ساتھ ساتھ ان کی تمام معلومات جانچ کی تکمیل پر این آئی ایچ کو بھیجی جائیں گی‘۔

پروفیسر عمر نے کہا کہ اے ایم سی اور اے ٹی ایچ میں مختلف فیکلٹیوں میں کام کرنے والے کل 15 ڈاکٹر ملک کے لیے اعزاز حاصل کرنے کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔