خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ میں کورونا وائرس کی تشخیص

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2020

ای میل

خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ—فائل فوٹو
خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ—فائل فوٹو

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے صوبے کے ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کردی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے لکھا کہ ڈاکٹر اکرام اللہ انتہائی پرعزم ہیں اور بہتری محسوس کر رہے ہیں اور گھر پر آئیسولیشن میں ہیں۔

انہوں نے ڈاکٹر اکرام اللہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا اور انہیں قیمتیں اثاثہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: نشتر ہسپتال کے 18 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص

ساتھ ہی انہوں نے صوبے میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے 'ہزاروں صف اول کے ورکرز' کی کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے ڈاکٹر اکرام اللہ کی مکمل صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے پوری قوم کو کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر مقابلہ کرنے والے میڈکس کی قربانیاں یاد دلائیں۔

تیمور جھگڑا نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر اکرام اللہ نے اپنی جان کا خطرہ لیتے ہوئے کام کیا تاکہ دیگر لوگوں کو محفوظ رکھا جائے اور ہم میں سے بہت سے ایسا کر رہے ہیں اور خطرے کو مول لے رہے ہیں اور ان میں سب سے آگے ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز ہیں۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے تسلیم کیا کہ آئندہ مہینوں میں مختلف مواقع پر چیلنجز درپیش ہوں گے تاہم ہمیں عزم، نظم و ضبط اور اتحاد سے وائرس سے لڑنا ہے اور اسے شکست دینی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس زین رضا نے بھی ڈاکٹر اکرام اللہ کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور صوبے کی کورونا وائرس رسپانس ٹیم کے فرنٹ لائن پر ہونے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) مردان کے ڈاکٹر نے طبی عملے کے لیے ذاتی تحفظ کے آلات کی کمی پر آواز اٹھائی تھی، بعد ازاں ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک بھر میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے درجنوں افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ ذاتی تحفظ کی اشیا (پی پی ایز) کے ناقص معیار کو قرار دیا تھا۔

پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر شاہد ملک نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کچھ ڈاکٹرز وائرس کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں جبکہ دیگر پی پی ایز کی عدم دستیابی یا کم معیار ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے درجنوں افراد کورونا سے متاثر

ان کا کہنا تھا کہ ملتان کے صرف ایک ہسپتال میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے 28 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ طبی عملے کی ایک بڑی تعداد کو ٹیسٹ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

ڈاکٹر شاہد ملک سے الزام عائد کیا تھا کہ طبی اراکین کو کم معیار کے حفاظتی لباس اور ناقص پی پی ایز فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کا حجم 300 ملی میکرون ہے اور یہ سرجیکل ماسک سے بآسانی گزرسکتا ہے صرف این 95 ماسکس اس سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے لیکن حکومت اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ عملہ اور ڈاکٹز بھی سرجیکل ماسکس پہنیں۔

خیال رہے کہ ملتان کے نشتر میڈیکل ہسپتال میں طبی عملے کے اراکین سمیت 28 ڈاکٹرز وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ کراچی میں بھی طبی عملے کے ارکان کی بڑی تعداد میں کووِڈ 19مثبت پایا گیا تھا۔