پاکستان، جی 20 کے قرض ریلیف منصوبے میں شامل

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2020

ای میل

ادائیگی کی معطلی کا وقت یکم مئی سے شروع ہو کر یکم دسمبر 2020 تک جاری رہے گا—تصویر: اے ایف پی
ادائیگی کی معطلی کا وقت یکم مئی سے شروع ہو کر یکم دسمبر 2020 تک جاری رہے گا—تصویر: اے ایف پی

کراچی: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کو ان ممالک میں شامل کرلیا گیا جو باضابطہ دو طرفہ قرض دہندگان کو قرضوں اور ان پر عائد سود کی ادائیگیوں میں ریلیف کے اہل ہیں۔

جی 20 ممالک نے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر زور دیا تھا کہ غریب ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کو توسیع دی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کا استعمال کورونا وائرس سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کرسکیں۔

جی 20 ممالک نے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے)میں شامل تمام ممالک قرضوں میں ریلیف کے مجوزہ منصوبے میں اہل ہوں گے۔

واضح رہے کہ آئی ڈی اے گروپ میں 76 ممالک شامل ہیں جن میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’عالمی برادری پاکستان جیسے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے پر غور کرے‘

اس سلسلے میں جی 20 ممالک نے قرض دہندہ اداروں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ قرضوں میں ریلیف کی شرائط کے علاوہ افریقی ممالک کے گروہ کے ساتھ کام کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ قرضوں میں ریلیف کے لیے ان کی معطلی کا وقت یکم مئی سے شروع ہو کر یکم دسمبر 2020 تک جاری رہے گا۔

اس عرصے کے دوران قرضوں کی تمام سروسز کو نئے قرضوں کی شکل دے دی جائے گی جس کی ادائیگیاں جون 2022 سے قبل شروع نہیں ہوں گی اور اس کے بعد کے 3 سالوں میں ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔

چنانچہ ریلیف کے منصوبے کے تحت ادائیگیوں کے لیے شرائط کی ایک معیاری شیٹ بنائی گئی ہے۔

دریں اثنا جی 20 ممالک، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ اس حوالے سے مشاورت کریں گے کہ کورنا وائرس کے باعث درپیش مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا قرضوں کی ادائیگی کی معطلی کا دورانیہ جون 2021 تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: قرضوں کی معافی، ری اسٹرکچرنگ کیلئے کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ ’باضابطہ دو طرفہ‘ قرض دہندگان کی اصطلاح کی تعریف ابھی طے کی جانی ہے جس کے اصول عالمی مالیاتی فنڈ طے کرے گا۔

پاکستانی حکام پر اعتماد ہیں لیکن اس حوالے سے غیر یقینی کا شکار بھی ہیں کہ اس اصطلاح کی تعریف ان تمام قرضوں پر لاگو ہوگی جو ملک کو اس سال ادا کرنے ہیں جس میں زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کی دی گئی سہولت بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت جی 20 گروپ کی سربراہی سعودی عرب کے پاس ہے جس نے ریاض سے اس اجلاس کی میزبانی کی جس میں کہا گیا کہ ’تمام باضابطہ دو طرفہ قرض دہندگان اس انیشی ایٹو میں حصہ لیں گے‘۔

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدان نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’غریب ممالک کو آئندہ 12 ماہ تک (قرضوں کی) ادائیگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو مالی سال 2021 میں 12 ارب 73 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں جو اس ریلیف منصوبے کا حصہ بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب جہاں اس منصوبے میں باضابطہ دو طرفہ مالیاتی اداروں کی بات ہورہی ہے وہیں دنیا بھر کے حکام سمجھتے ہیں کہ اس پر کمرشل قرض دہندگان کو بھی عمل کرنے کا کہا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں رواں سال نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی، آئی ایم ایف کی پیش گوئی

یہاں یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ پاکستان کو کمرشل قرض دہندگان کو آئندہ برس 2 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جس میں سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر چین کو ادا کرنے ہیں۔

پاکستان پر دیگر قرض دہندگان کے 6 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر میں سے 3 ارب 48 کروڑ ڈالر چین، 2 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سعودی عرب اور ایک ارب متحدہ عرب امارات کا قرض ہے۔

اس کے پاکستان کو ایک ارب 62 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف قرض دہندگان کو ادا کرنے ہیں جس میں نصف قرض ایشیائی ترقیاتی بینک بقیہ عالمی بینک کا ہے۔

اس کے ساتھ قرض ریلیف پروگرام میں پیرس کلب بھی شامل ہے جس کے 78 کروڑ 70 لاکھ ڈالر واجب الادا ہیں۔


یہ خبر 16 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔