سندھ ہائیکورٹ نے اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

اپ ڈیٹ 17 اپريل 2020

ای میل

ہائی کورٹ نے 2 رکنی بینچ نے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے نوٹسز جاری کردیے—فائل فوٹو: وکیمیڈیا کامنز
ہائی کورٹ نے 2 رکنی بینچ نے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے نوٹسز جاری کردیے—فائل فوٹو: وکیمیڈیا کامنز

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے 22 اپریل تک اسکولوں میں فیسوں میں 20 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے نوٹس جاری کردیے اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل رہے گا۔

دی ٹائمز ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن، سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یکم اپریل کو جاری نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کے نجی اسکولوں کو اپریل، مئی کی فیس میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فریقین کے پاس اس قسم کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی نوٹیفکیشن میں یہ بات ظاہر کی گئی کہ یہ فیصلہ متعلقہ حکام یا کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فیسوں میں کمی کا فیصلہ نجی طور پر چلنے والے اسکولز اور ان کی تنظیموں کا مؤقف سنے بغیر کیا گیا۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انصاف کے فطری تقاضوں کے خلاف ہے جبکہ فیسوں میں اضافے کے معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ 7 اپریل کو محکمہ تعلیم سندھ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے تمام نجی اسکولوں کو ماہ اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب والدین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

اعلامیے میں ہدایات کی گئی تھی کہ صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو لازمی طور پر ماہ اپریل اور مئی کی ٹیوشن فیس میں 20 فیصد کمی کرنا ہو گی۔

صوبائی حکومت نے نجی اسکولوں کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں والدین کی جانب سے شکایات کے لیے ایک خصوصی شکایتی سیل بھی تشکیل دیا تھا۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے تنبیہ بھی کی گئی تھی کہ اگر نجی تعلیمی اداروں نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جاری کیے گئے اعلامیے میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں والدین کو شکایت درج کروانے کے لیے فون نمبرز بھی فراہم کیے گئے تھے۔

ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ نجی اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ بھی تنخواہوں کی عدم فراہمی کی صورت میں ان فون نمبرز پر رابطہ کرکے اپنی شکایات درج کرواسکتے ہیں۔