پاکستان میں کووڈ 19ویکسین کے ٹرائل کیلئے چینی کمپنی سے مزید معلومات طلب

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2020

ای میل

ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک چینی کمپنی نے ویکسین کے ممکنہ ٹرائلز کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک چینی کمپنی نے ویکسین کے ممکنہ ٹرائلز کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

چینی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں کووِڈ 19 کی ویکسین کے ممکنہ ٹرائل کی پیشکش پر حکومت نے مزید معلومات طلب کرلیں۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک چینی کمپنی نے ویکسین کے ممکنہ ٹرائلز کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا تھا۔

سماجی روابط کی ویب وسائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹرائلز سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے قبل سیفٹی، ایتھکس، ریگولیشن اور فزیبیلیٹی کے تناظر میں فراہم کردہ معلومات کا متعلقہ ماہرین کے ذریعے جائزہ لیں گے۔

پاکستان میں کووِڈ 19 کے مریضوں پر ویکسین کے ٹرائلز کے حوالے سے انہوں نے کہا ابھی اس حوالے سے ’کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی کی پاکستان میں کووِڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائل کی پیشکش

خیال رہے کہ چین کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی نے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد کو کووِڈ 19 کے لیے تیار کردہ ویکسین کا پاکستان میں کلینکل ٹرائل کرنے کی دعوت دی تھی۔

یہ پیشکش چائنا سائینو فارم انٹرنیشنل کارپوریشن کے جنرل منیجر کی جانب سے این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام کے نام لکھے گئے خط میں کی گئی تھی۔

مذکورہ سرکاری کمپنی چین کی 80 فیصد سے زائد قوت مدافعت کی ویکیسن کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور کووِڈ 19 کے خلاف جنگ میں بھی اپنے ملک میں اہم کردار ادا کیا۔

مذکورہ خط میں اس اُمید کا اظہار کیا گیا تھا کہ ’کامیاب ٹرائل سے پاکستان ان چند اولین ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں کووِڈ 19ویکسین متعارف کروائی جائے گی‘۔

مزید پڑھیں: امریکا کے بعد جرمنی و برطانیہ میں بھی کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش

چینی کمپنی کے ارسال کردہ خط میں کہا گیا تھا کہ سائنو فارم ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے نوول کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی ہے۔

مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ’اس عمل کے دوران ہم نے متعدد عملی جانچ تیار کی ہیں جو ہم آپ کو دینا چاہتے ہیں اور پاکستان میں ویکسین کی تیاری کے لیے 2 ادارے معاونت کررہے ہیں‘۔

چینی کمپنی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ریگولیٹری اتھارٹیز نے کووڈ19 ویکسین جلد متعارف کروانے میں سہولت کے لیے ہنگامی پروٹوکولز بنائے ہیں اور چین میں اس عمل کو تیز کرنے کے لیے فیز ون اور فیز ٹو کے کلینکل ٹرائلز اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

مذکورہ کمپنی نے پاکستان کو بھی یہی تجویز دی تھی کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ذریعے اسی طریقہ کار کو اپنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ایک اور تجرباتی دوا کی آزمائش

مراسلے میں تجویز دی گئی کہ سائنو فارم کی نمائندہ کمپنی ہیلتھ بی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور این آئی ایچ فوری طور پر فیز ون اور فیز ٹو کے اکٹھے ٹرائل کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشت طے کریں۔

چینی کمپنی کے جنرل منیجر کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخظ سے سائنو فارم اس ویکسین کی ’منظوری، منصوبہ بندی کے حوالے سے مزید خفیہ معلومات فراہم کرسکے گی‘۔

ساتھ ہی کمپنی نے کلینکل ٹرائل کے عمل کے دوران کامیابی کے لیے قومی ادارہ صحت کی ٹرائل ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔