چینی کمپنی کا کورونا ویکسین کی بندروں پر کامیاب آزمائش کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 25 اپريل 2020

ای میل

8 بندروں کوویکسین کی 2 مختلف مقدار انجیکشن کے ذریعے دی—فائل فوٹو: اے ایف پی
8 بندروں کوویکسین کی 2 مختلف مقدار انجیکشن کے ذریعے دی—فائل فوٹو: اے ایف پی

بیجنگ: چینی ادویہ ساز کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق نوول کورونا وائرس کی ایک ویکسین کے جانوروں پر ٹرائل کے دوران اس نے بندروں کو مذکورہ انفیکشن سے ’بڑی حد تک محفوظ رکھا‘۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ایک لاکھ 90 ہزارسے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور مختلف ممالک اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

سائنوویک بائیوٹک نامی کمپنی نے کہا کہ اس نے بندروں کی ایک قسم جسے معدومیت کا کوئی خطرہ نہیں، اس سے تعلق رکھنے والے 8 بندروں کو ویکسین کی 2 مختلف مقدار انجیکشن کے ذریعے دی۔

اس کے 3 ہفتوں بعد انہیں وائرس کے سامنے لایا گیا لیکن ان میں انفیکشن نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کا پراسرار پہلو جو متعدد اموات کا باعث بننے لگا

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام بندر ’بڑی حد تک SARS-CoV-2 انفیکشن سے محفوظ رہے‘۔

کمپنی کی تشخیص کے مطابق 4 بندروں کو ویکسین کی زیادہ مقدار دی گئی تھی اور وائرس ان کے جسم میں داخل کرنے کے 7 روز بعد تک ان کے پھیپھڑوں میں کوئی ’علامت ظاہر‘ نہیں ہوئی۔

کمپنی نے کہا کہ باقی جن 4 بندروں کو ویکسین کی کم مقدار دی گئی ان میں وائرس داخل کیے جانے بعد جسم میں وائرس کا دباؤ دیکھا گیا لیکن وہ خود بخود صحیح ہوگیا۔

اس کے برعکس جن 4 بندروں کو ویکسین نہیں دی گئی وہ وائرس سے شدید بیمار ہوئے اور انہیں نمونیا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: درجنوں صحتیاب افراد میں دوبارہ کورونا وائرس کی تشخیص سے ڈاکٹر پریشان

سائنوویک نے اپنے ٹرائلز کے نتائج آزمائش شروع کرنے کے 3 روز بعد آن لائن شائع کیے لیکن ان تنائج کا ابھی عالمی سائنسی برادری جائزہ لے گی۔

یہ ویکسین دیگر ویکسینز کی طرح کورونا وائرس کو غیر فعال کر کے جسم میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ یہ ٹیسٹ ’اچھی کارکردگی‘ کو ظاہر کرتے ہیں اور کمپنی ویکسین کی صلاحیت کے حوالے سے پُراعتماد ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے متعدد اسٹرین تحقیق میں سامنے آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس آہستہ آہستہ اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے جس نے اس کی ممکنہ ویکسین بنانے کے عمل کو مزید مشکل بنادیا ہے۔