کورونا وائرس: بھارتی ریاست تامل ناڈو نے سرحد پر دیواریں بنوادیں

اپ ڈیٹ 28 اپريل 2020

ای میل

دونوں ریاستوں کو ملانے والی دو سڑکوں پر دیوار بنوا دی گئیں—فوٹو: انڈین ایکسپریس
دونوں ریاستوں کو ملانے والی دو سڑکوں پر دیوار بنوا دی گئیں—فوٹو: انڈین ایکسپریس

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا کے درجنوں ممالک میں کہیں جزوی تو کہیں سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے اور ایسے ہی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک بھارت بھی شامل ہے، جہاں پر گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

بھارت میں لاک ڈاؤن نافذ ہونے اور گاڑیوں کے چلانے پر پابندی کے باوجود لوگوں کی جانب سے گاڑیاں چلائے جانے سے معاملات پیچیدہ ہو رہے ہیں اور حکومت نے پولیس کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی بھی ہدایت کر رکھی ہیں۔

تاہم بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو نے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے ایک سے دوسری ریاست منتقلی کو روکنے کے لیے ایک قدم آگے جاتے ہوئے سرحد پر دیواریں بنوا ڈالیں۔

جی ہاں، بھارت کی ریاست تامل ناڈو نے دوسری ریاست سے ملنے والی اپنی سرحد پر 7 فٹ اونچیں دیواریں بنادیں۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے قریبی ریاست آندھرا پردیش کی سرحد سے منسلک اپنے ضلع چھتور گڑھ کی 2 سڑکیں دیواریں بنا کر بند کردیں۔

چھتور ضلع کے دو مقامات پر آندھرا پردیش اور تامل ناڈو کے درمیان آمد ورفت کی سڑک موجود ہیں اور ریاستی حکومت نے سڑک پر 7 فٹ لمبی دیواریں بنادیں۔

ریاستی حکومت کے مطابق سرحد پر دیواریں بنوانے کا مقصد دونوں ریاستوں میں گاڑیوں کی آمد و رفت کو روکنا ہے، کیوں کہ گاڑیوں کی آمد و رفت سے انسانوں کی منتقلی ہو رہی ہے۔

تامل ناڈو سمیت بھارت کی دیگر جنوبی ریاست میں بھی سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے اور وہاں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے بھی ہر طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ بند کی گئی ہے اور لوگوں کی منتقلی پر بھی پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود بھارت میں نجی گاڑیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر انسانوں کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

تاہم تامل ناڈو حکومت کی جانب سے سرحد پر دیواریں بنوانے سے کچھ مسائل بھی ہو رہے تھے اور حکومت کے اس فیصلے کر بڑے پیمانے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

سرحد پر دیواریں بنانے سے جہاں ہر طرح کی گاڑیوں کی منتقلی بند ہوگئی تھی، وہیں ایمبولینسز اور گڈز ٹرانسپورٹ کی منتقلی بھی رک گئی تھی اور کئی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔

ایمبولینسز کے تامل ناڈو سے آندھرا پردیش منتقل ہونے یا وہاں سے یہاں آنے میں شدید مشکلات کے بعد انتظامیہ نے دیواروں کو توڑنے کا حکم دیا۔

تامل ناڈو میں اس وقت کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے پھیل رہے ہیں اور وہاں پر 28 اپریل کی دوپہر تک متاثرہ افراد کی تعداد 1900 کے قریب جا پہنچی تھی جب کہ آندھرا پردیش میں بھی دیگر ریاستوں کی طرح کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

آندھرا پردیش میں 28 اپریل کی دوپہر تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 1100 کے قریب جا پہنچی تھی جب کہ بھارت بھر میں 28 اپریل کی دوپہر تک مجموعی کیسز کی تعداد 29 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک جا پہنچی تھی۔

بھارت میں سب سے زیادہ کیسز ریاست مہارا شٹر میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ سب سے زیادہ متاثرہ شہر ممبئی ہے۔

جنوبی ایشیائی خطے میں بھارت میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض اور ہلاکتیں ہوچکی ہیں، دوسرے نمبر پر 14 ہزار 300 مریضوں کے ساتھ پاکستان ہے اور وہاں پر 28 اپریل کی دوپہر تک ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زائد ہوچکی تھی۔

دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 28 اپریل کی دوپہر تک 30 لاکھ 50 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 11 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔