کورونا ویکسین کی معلومات چرانے کیلئے دنیا بھر کے خفیہ ادارے متحرک

اپ ڈیٹ 01 مئ 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق کون سے خفیہ ادارے چرانے کے لیے متحرک ہیں یہ واضح نہیں — فوٹو: دی کنورسیشن
رپورٹ کے مطابق کون سے خفیہ ادارے چرانے کے لیے متحرک ہیں یہ واضح نہیں — فوٹو: دی کنورسیشن

دنیا بھر میں لگ بھگ 33 لاکھ افراد کو متاثر کرنے اور 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں چھیننے والی کورونا کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور اب دنیا کے درجنوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی اس میں کود پڑی ہیں۔

کورونا وائرس دسمبر 2019 میں چینی شہر ووہان سے شروع ہوا تھا اور اب تک یہ وبا دنیا کے 190 سے زائد ممالک کو متاثر کر چکی ہے اور دنیا کے 100 کے قریب ادارے اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس وبا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

امریکا، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا اور اسرائیل سمیت درجنوں ممالک کی ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں اور بائیو ٹیک کمپنیاں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دوڑ میں مصروف ہیں، تاہم تاحال کوئی بھی کمپنی ویکسین تیار کرنے کے بعد آزمائشی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اگرچہ دنیا کے 100 کے قریب بائیوٹیک ادارے اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں ویکسین بنانے میں مصروف ہیں، تاہم یکم مئی تک صرف 4 کمپنیوں کی ویکسین کی آزمائش انسانوں پر کی جا رہی تھی، جس میں سے 2 امریکی، ایک برطانوی، ایک جرمن کمپنی کی ویکسین کی آزمائش شروع کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا و برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی کورونا ویکسین کی آزمائش

تاہم بہت ساری کمپنیاں ایسی بھی ہیں جو تاحال ویکسین کا فارمولا بھی نہیں بنا سکیں اور کئی ممالک اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ کورونا سے بچنے کی ویکسین کیسے تیار کی جائے؟

اسی پریشانی کے تحت ہی دنیا کے متعدد ممالک کے خفیہ ادارے دوسرے ممالک سے کورونا کی ویکسین کی معلومات چرانے کے لیے متحرک ہوچکے ہیں اور جاسوسی کی دنیا میں ایک نئی جنگ بھی شروع ہوچکی ہے۔

جی ہاں، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی معلومات چرانے کے لیے ایک خفیہ سائبرس جاسوس جنگ شروع ہوچکی ہے اور ہر ملک کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں برتری حاصل کرے۔

رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکی سائبر سیکیورٹی کے اداروں نے حکومت اور طبی تحقیق پر کام کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ کورونا سے متعلق ویکسین کی تیاری کا ڈیٹا کسی وقت بھی چوری ہو سکتا ہے،

امریکا کے ادارے نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر کے ڈائریکٹر بل اوانینا کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے تمام طبی تحقیقاتی اداروں اور ویکسین تیار کرنے والی بائیو ٹیک کمپنیوں اور میڈیکل سینٹرز کو ویکسین کی معلومات چوری ہونے کے خطرات سے خبردار کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے امریکا میں ایسی سرگرمیوں کو محسوس کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی جاسوس کمپنیاں کورونا کی ویکسین سے متعلق معلومات چرانے کا کام شروع کر چکی ہیں اور حکومت نے ایسی سرگرمیوں کو نوٹ کرنے کے بعد طبی تحقیقاتی اداروں کو خبردار بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کے خلاف ویکسین کے حوالے سے اگلے چند ہفتے اہم

امریکی سیکیورٹی عہدیدار نے واضح کیا کہ کورونا کی ویکسین کی تیاری سے متعلق ڈیٹا کی چوری کے امکانات موجود ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا اب تک امریکا سے اسی طرح کے کسی ڈیٹا کی چوری ہو چکی ہے یا نہیں؟

بل اوانینا جس ادارے کے سربراہ ہیں وہ امریکی حکومت اور کاروباری اداروں سمیت تعلیمی اداروں کو غیر ملکی جاسوس اداروں کی کارروائیوں سے نمٹنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی تجاویز پیش کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ڈیٹا کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دنیا کے متعدد ممالک کی خفیہ ایجنسیاں امریکی تحقیقاتی اداروں کے ڈیٹا سینٹر تک رسائی حاصل کرکے کورونا کی ویکسین سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

انہوں نے دیگر ممالک کا نام لیے بغیر ہی بات کی تاہم انہوں نے چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کا نام لیا اور کہا کہ وہ بھی امریکی طبی تحقیقاتی اداروں کا ویکسین سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

امریکی خفیہ اداروں کی طرح برطانوی خفیہ اداروں نے بھی ایسی ہی سرگرمیوں کو نوٹ کیا ہے اور ان کا بھی ماننا ہے کہ دیگر ممالک کے ادارے متحرک ہو چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ امریکی اور برطانوی اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں کورونا سے متعلق معلومات کے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے اداروں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آخر کن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں ایسا کر رہی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں کے مطابق دنیا بھر کی حکومت، ادویات ساز کمپنیاں، نجی کاروباری ادارے اور تحقیقاتی کمپنیاں بھی اس کوشش میں ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح کہیں نہ کہیں سے کورونا ویکسین کی تیاری سے متعلق معلومات حاصل کریں اور دوسری جانب ہر ملک نے اس ضمن میں سیکیورٹی کے انتطامات کو بھی سخت کردیا ہے۔

یہ افواہیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حال ہی میں امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ہسپتال، طبی تحقیقاتی اداروں اور بائیو ٹیکنالوجی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ دوسرے ممالک کے خفیہ ادارے اور کمپنیاں ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے کورونا کی ویکسین اور کورونا سے متعلق دیگر اہم معلومات چوری کر سکتے ہیں۔

ایف بی آئی کے انتباہ کے بعد اپریل کے وسط میں یورپی ملک جمہوریہ چیک کے معروف ہسپتال کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سسٹم پر سائبر سیکیورٹی حملے کی کوشش کرکے ڈیٹا چرانے کی کوشش کی گئی۔