خیبرپختونخوا: پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کے کزن فائرنگ سے زخمی

اپ ڈیٹ 02 مئ 2020
—فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
—فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کے کزن کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔

پی ٹی ایم کے رہنما عارف وزیر کو قبائلی علاقے وانا میں ان کے رہائش گاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

تاہم عارف وزیر اور ان کے ساتھیوں کی جوابی فائرنگ سے مسلح افراد فرار ہوگئے۔

پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے واقعے کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین پشاور سے گرفتار

انہوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے عارف وزیر کو ان کی رہائش گاہ کے قریب نشانہ بنایا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

محسن داوڑ نے بتایا کہ عارف وزیر کے سر اور گردن پر گولیاں لگیں جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ڈی آئی خان کے ہسپتال میں منتقل کرنے کا مشورہ دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد فائرنگ کر کے گاڑی میں فرار ہوگئے۔

واقعے کی سرکاری حکام سے تصدیق نہیں ہوسکی اور رابطہ کرنے کی کوشش پر ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کا فون نمبر بند پایا گیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایسا اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتا ہے۔

پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔

تاہم پی ٹی ایم کے رہنما خاص طور پر اس کے قومی اسمبلی کے اراکین بغیر کسی عمل کے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاہم پاک فوج کا کہنا کہ یہ پارٹی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ریاست کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی ایم کا بنوں میں جلسہ، پختون رہنماؤں سے اتحاد کا مطالبہ

خیال رہے کہ گزشتہ برس پی ٹی ایم کے دو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو پولیس نے خرقمر میں مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں سے تصادم اور تشدد پر گرفتار کیا تھا۔

پی ٹی ایم کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک کے قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے ان کی پرامن جدوجہد ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں