لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ماہ بعد چین میں کورونا کی نئی لہر

اپ ڈیٹ 11 مئ 2020

ای میل

نئی لہر کے بعد ایک شہر میں لاک ڈاؤن کردیا گیا—فوٹو: رائٹرز
نئی لہر کے بعد ایک شہر میں لاک ڈاؤن کردیا گیا—فوٹو: رائٹرز

کورونا کا مرکز سمجھے جانے والے چین نے مارچ میں ملک میں کورونا کے کیسز میں واضح کمی کے بعد لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہوئے معمولات زندگی بحال کی تھی تاہم اب وہاں کی انتظامیہ کو کورونا کی نئی لہر کا سامنا ہے۔

چین کے شہر ووہان کو کورونا وائرس کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور وہیں سے ہی کورونا کا آغاز ہوا تھا مگر وہاں پر وائرس پر کنٹرول ہونے کے بعد حکام نے 8 اپریل کو لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر ختم کردیا تھا۔

لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر ختم کیے جانے کے بعد ایک ماہ بعد اب ووہان میں کورونا وائرس کی نئی لہر دیکھی جار ہی ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں پہلی بار 8 اور 10 مئی کو وہاں سب سے زیادہ نئے کیسز کی تصدیق ہوئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے شہر ووہان میں لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے ایک ماہ بعد کورونا کی نئی لہر دیکھنے کو ملی اور ایک ماہ میں پہلی بار 10 مئی کو وہاں نئے 17 کیسز رپورٹ کیے گئے۔

اگرچہ ماضی میں ووہان کے اندر ایک ہی دن میں تین سے 5 ہزار نئے کیسز بھی سامنے آئے تاہم وائرس پر قابو پائے جانے اور لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد اتنی بڑی تعداد میں وہاں سے ایک ہی دن میں نئے کیسز سامنے نہیں آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: کورونا وائرس کے مرکزی شہر ووہان میں 76 روز بعد لاک ڈاؤن ختم

ووہان سے ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے پریشانی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خطرہ اب بھی موجود ہے اور ہمیں سماجی فاصلوں سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر سخت عمل کرنے سمیت مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔

لاک ڈاؤن کو ختم کیے جانے کے بعد ووہان سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران یومیہ کیسز سامنے نہیں آئے تھے اور بعض مرتبہ چند دن بعد ایک ہی کیس سامنے آیا تھا مگر مئی کے شروع ہوتے ہی ووہان سے یومیہ 2 سے تین اور بعد ازاں 5 اور پھر 10 مئی کو 17 نئے کیسز سامنے آئے۔

جہاں ووہان میں نئے مصدقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، وہیں حکام کے مطابق شہر میں درجنوں ایسے افراد موجود ہیں جن میں کورونا جیسی علامات موجود ہیں تاہم ان میں تاحال وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

چینی شہر سوہان میں لاک ڈاؤن نافذ

ایک طرف جہاں ووہان میں نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وہیں چین کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کو بحال کرنے میں مزید نرمی کی جا رہی ہیں اور شنگھائی کی ڈزنی لینڈ پارک کو کھولنے سمیت سینما گھروں کو بھی کھولا جا رہا ہے۔

وہیں دوسری طرف چین کے صوبے جیلن کے شہر سوہان میں کورونا کے نئے کیسز میں تیزی کے بعد وہاں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: چین: کورونا وائرس کے باعث بند تعلیمی ادارے کھلنے لگے، کاروبار زندگی بحال

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے جیلن کے شہر سوہان میں 70 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور چینی حکام نے اسی شہر کو کورونا کا نیا اور حالیہ مرکز قرار دیا ہے۔

سوہان میں 9 مئی کو 20 جب کہ 10 مئی کو 10 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور مجموعی طور ایک ہفتے میں 70 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کرکے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کردیں۔

سوہان کی آبادی 6 لاکھ ہے اور وہاں سامنے آنے والے نئے کیسز زیادہ تر مقامی سطح پر پھیلے تاہم حکام اس حوالے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کورونا کی نئی لہر کو دیکھتے ہوئے چینی حکام نے احتیاطی تدابیر کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں جب کہ کورونا کی علامات والے افراد کو کسی بھی صورت میں باہر نکلنے سے بھی روک دیا گیا۔