جو بائیڈن پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خاتون ان کی کامیابی کی خواہاں

اپ ڈیٹ 11 مئ 2020

ای میل

جوبائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ہیں—فوٹو: اے پی
جوبائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ہیں—فوٹو: اے پی

رواں سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے امیدوار 77 سالہ جوبائیڈن پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی ایک خاتون نے کہا ہے کہ اگرچہ جوبائیڈن ان کی تذلیل کی مگر پھر بھی ان کی خواہش ہے کہ وہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دیں۔

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی 43 سالہ خاتون ایمی لاپوز نے کہا ہے کہ اگرچہ دو سفید فارم مرد حضرات کا صدارتی امیدوار ہونا امریکی سیاست میں پیش رفت نہیں ہے تاہم پھر بھی وہ جوبائیڈن کی ہی حمایت کریں گی۔

ایمی لاپوز بھی ان متعدد خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار پر ہراسانی اور استحصال کے الزامات لگا رکھے ہیں۔

ایمی لاپوز نے اگرچہ ابتدائی طور پر گزشتہ سال ہی جوبائیڈن پر الزامات لگائے تھے تاہم رواں برس اپریل کے آغاز میں انہوں نے جوبائیڈن پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدارتی امیدوار نے انہیں ایک دہائی قبل استحصال کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جوبائیڈن پر سینیٹ کی سابق ملازمہ کا جنسی زیادتی کا الزام

مذکورہ خاتون نے ابتدائی طور پر جوبائیڈن کے خلاف ایک فیس بک پوسٹ میں الزامات لگائے اور دعویٰ کیا کہ صدارتی امیدوار نے انہیں 2009 میں استحصال کا نشانہ بنایا۔

ایمی لاپوز کا کہنا تھا کہ 2009 میں ایک سیاسی فنڈریزنگ ایونٹ کے دوران جوبائیڈن نے انہیں بالوں اور گردن سے پکڑ کر ان کے چہرے کو پیچھے کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ بس کچھ ہی دیر میں جوبائیڈن انہیں لبوں پر بوسہ دینے والے ہیں۔

خاتون نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ اگرچہ جوبائیڈن نے جنسی طور پر ان کا استحصال نہیں کیا مگر انہوں نے ان کا استحصال کیا، جس سے انہیں صدمہ پہنچا۔

خواہش ہے کہ جوبائیڈن ہی جیتے، ایمی لاپوز—فائل فوٹو: سی ٹی انسائیڈر
خواہش ہے کہ جوبائیڈن ہی جیتے، ایمی لاپوز—فائل فوٹو: سی ٹی انسائیڈر

ان کی طرح دیگر چند خواتین نے بھی جوبائیڈن پر ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں تاہم انہوں نے بھی واضح کیا کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا نہیں کیا گیا لیکن متعدد خواتین نے صدارتی امیدوار کے خلاف جنسی ہراسانی اور ریپ کے الزامات بھی عائد کر رکھے ہیں۔

جن خواتین نے جوبائیڈن پر ریپ اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگا رکھے ہیں ان میں امریکی سینیٹ کی سابق ملازمہ ٹیرا رائیڈ بھی شامل ہیں۔

ٹیرا رائیڈ نے اپریل کے وسط میں ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 1993 میں جوبائیڈن نے کیپٹل ہل آفس کی عمارت کی بیسمنٹ میں زیادتی کا نشانہ بنایا، اس سے قبل مارچ میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ جوبائیڈن نے انہیں دبوچا، ان کا استحصال کیا اور ان کے جسم پر جنسی انداز میں ہاتھ پھیرے۔

مذکورہ خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جوبائیڈن کے خلاف اس وقت بھی دفتر میں بھی شکایت درج کروائی تھی۔

تاہم جوبائیڈن ٹیرا رائیڈ اور ایمی لاپوز سمیت تمام خواتین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: جوبائیڈن نے جنسی ہراسانی کے الزامات مسترد کردیے

اور اب جوبائیڈن پر ہراسانی کا الزام لگانے والی خاتون 43 سالہ ایمی لاپوز نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن ہی جیتیں۔

بزنس انسائیڈر کے مطابق ایمی لاپوز نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جوبائیڈن کی جانب سے ہراساں کیے جانے سمیت صدارتی انتخابات پر بھی کھل کر بات کی اور انہوں نے صدارتی اُمیدواروں کو اچھی پیش رفت قرار دینے سے گریز کیا۔

ایمی لاپوز کے مطابق نومبر 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دونوں اہم اُمیدوار سفید فام مرد ہیں اور یہ کوئی اچھی پیش رفت نہیں ہے اور وہ دونوں امیدواروں سے مطمئن نہیں۔

جوبائیڈن پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خاتون کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں دونوں سفید فام مرد امیدوار پسند نہیں، تاہم اس کے باوجود وہ چاہیں گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں شکست ہو۔

ایمی لاپوز کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں جوبائیڈن کو کامیابی ملے۔

واضح رہے کہ نومبر کے وسط سے قبل امریکی انتخابات ہوں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ دوسری اور آخری مدت کے لیے انتخابات میں حصہ لیں گے جب کہ ان کے مد مقابل اہم امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن ہوں گے۔

جوبائیڈن ماضی میں نائب امریکی صدر بھی رہ چکے ہیں اور وہ سینیٹر رہنے سمیت اہم سرکاری و سیاسی عہدوں پر بھی خدمات دے چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے باعث اگرچہ صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کے حوالے سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان نہیں دیا اور زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ صدارتی انتخابات کسی بھی صورت ملتوی یا منسوخ نہیں ہوں گے۔