جنوبی کوریا میں نائٹ کلب دوبارہ کورونا پھیلانے کا سبب بن گئے

اپ ڈیٹ 11 مئ 2020

ای میل

حکام نے ڈانس بارز میں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والوں کی تلاش شروع کردی—فائل فوٹو: اے ایف پی
حکام نے ڈانس بارز میں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والوں کی تلاش شروع کردی—فائل فوٹو: اے ایف پی

کورونا کی وبا پر قابو پانے کے بعد لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کی وجہ سے جہاں اب چین میں بھی کورونا کے پھیلاؤ کی دوسری لہر دیکھی جا رہی ہے، وہیں جنوبی کوریا میں بھی ایک ماہ میں پہلی بار سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

چین میں بھی مئی کے پہلے ہفتے میں کورونا کی دوسری لہر کے سلسلے میں نئے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا جب کہ جنوبی کوریا کے نائٹ کلبس اور ڈانس بارز کو کورونا کی دوسری لہر پھیلانے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے ڈانس بارز اور نائٹ کلبس کی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے کم از کم 86 افراد میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد حکام نے ان لوگوں کی تلاش شروع کردی ہے جنہوں نے مذکورہ بارز میں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کی تھی۔

جنوبی کورین حکام نے 11 مئی کو تصدیق کی کہ نائٹ کلب اور ڈانس بارز میں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے 2500 کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ ایسی ہی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے دیگر 3 ہزار افراد کی تلاش جاری ہے۔

حکام نے بتایا کہ ڈانس اور نائٹ کلبس میں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے زیادہ تر افراد ہم جنس پرست، مخنث اور متنازع جنسی رجحانات رکھنے والے افراد تھے اور ان پارٹیوں میں شرکت کرنے والے چند افراد کورونا کے مبینہ مریض تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے بعد جنوبی کوریا نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟

مذکورہ افراد نے دارالحکومت سیئول کے پرتعیش علاقے اٹائیون میں موجود نائٹ اور ڈانس بارز میں شرکت کی تھی اور یہ علاقے ایسی سرگرمیوں کے لیے منفرد شہرت بھی رکھتا ہے۔

گزشتہ چند دن میں اسی علاقے کے نائٹ و ڈانس بارز میں شرکت کرنے والے 86 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 10 مئی کی شب تک ملک سے 35 نئے کیسز بھی سامنے آئے۔

مذکورہ کیسز گزشتہ ایک ماہ کے بعد سب سے زیادہ کیسز ہیں، اس سے قبل مارچ کے آغاز تک جنوبی کوریا میں اتنے ہی کیسز سامنے آئے تھے۔

جنوبی کوریا چین کے بعد دوسرا ملک تھا جہاں یہ وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تھا مگر بغیر سخت لاک ڈائون کے ہی اس نے بیماری کو پھیلنے سے روک دیا تھا اور اس ضمن میں جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کی تھی اور مشکوک لوگوں کو ٹریس کرکے ان کی نگرانی بھی کی تھی۔

مارچ میں کورونا کے نئے کیسز انتہائی کم رفتار میں آنے کے بعد جنوبی کوریا نے لاک ڈاؤن کو مزید نرم کردیا تھا مگر اب ایک ماہ بعد وہاں بھی نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام پریشان ہوگئے۔

نائٹ اور ڈانس بارز میں اتنے لوگوں کی شرکت اور وہاں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے 86 افراد میں کورونا کی تشخیص کے باوجود اگرچہ حکام نے ڈانس بارز کو بند نہیں کیا، تاہم حکومت نے تنبیہہ کی ہے کہ اگر حالات یوں رہے تو جنوبی کوریا نئی اور شدید لہر کا سامنا کر سکتا ہے۔

ساتھ ہی ماہرین نے متنازع جنسی رجحان رکھنے والے افراد سمیت ہم جنس پرست اور مخنث افراد کو بھی تنبیہہ کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایات کی ہیں کیوں کہ نائٹ اور ڈانس بارز کی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے جن افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے اس میں سے 29 افراد کا تعلق ہم جنس پرست اور مخنث افراد سے ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا نے صرف 20 دن میں کورونا کی وبا کو کیسے کنٹرول کیا؟

سیول سمیت ملک کے دیگر حصوں سے کورونا کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک کے صدر اور وزیر اعظم نے مقامی حکومتوں کے سربراہوں کو ہدایات کی ہیں کہ وہ پولیس، محکمہ صحت کے حکام اور ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ مل کر مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کریں تاکہ ملک کو دوسری اور خطرناک لہر سے بچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ 11 مئی کی صبح تک جنوبی کوریا میں نئے مریضوں کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 11 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 256 تک جا پہنچی تھی۔

جنوبی کورویا میں گزشتہ ایک ماہ سے کورونا کے باعث کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی جب کہ ایک ماہ بعد مئی کے آغاز میں دوبارہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے کورونا کی دوسری لہر کو اپنے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔