آئی پی ایل کی منسوخی سے بھارتی بورڈ کو 50 کروڑ ڈالر سے زائد کے نقصان کاخدشہ

اپ ڈیٹ 18 مئ 2020

ای میل

بھارتی بورڈ کو آئی پی ایل کی منسوخی سے 53 کروڑ ڈالر نقصان ہوگا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
بھارتی بورڈ کو آئی پی ایل کی منسوخی سے 53 کروڑ ڈالر نقصان ہوگا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) دنیا کی مہنگی ترین کرکٹ لیگ ہے جس پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا بھی بڑی حد تک مالی انحصار ہوتا ہے تاہم رواں برس کورونا وائرس کے باعث منسوخی سے 53 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کےمعاوضوں میں کمی کا تاحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 12 برس قبل شروع ہونے والی آئی پی ایل کورونا وائرس کے باعث طے شدہ شیڈول کے مطابق 29 مارچ کو شروع نہ ہوسکی تھی اور غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس کے باعث آئی پی ایل غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی

آئی پی ایل 2020 کی منسوخی سے بھارتی بورڈ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مالی دھچکا لگے گا۔

بی سی سی آئی کے خزانچی ارون دھومل کا کہنا تھا کہ 'بی سی آئی آئی کو بڑے مالی نقصان کاسامنا ہے، اگر آئی پی ایل منعقد نہیں ہوئی تو بھارتی 40 ارب روپے (53 کروڑ ڈالر) یا اس سے بھی زیادہ نقصان ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آیا اس سال آئی پی ایل منعقد کرپائیں گے یانہیں'۔

بی سی سی آئی کی جانب سے 2008 میں آئی پی ایل شروع کردی گئی تھی جو دنیا کی مہنگی ترین اور منافع بخش لیگ بن گئی تھی جس سے بورڈ کو کروڑوں ڈالر کا سرمایہ جمع ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق آئی پی ایل کا بھارتی معیشت میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ہوتا ہے۔

ارون دھومل نے کہاکہ 'ہم اس وقت مالی نقصان کاصحیح اندازہ لگا سکیں گے جب ہمیں یقین ہو کہ کس حد تک ٹورنامنٹ متاثر ہوا ہے'۔

ڈف اینڈ فیلپس فنانشل کنسلٹنسی کے مطابق گزشتہ برس آئی پی آئی کی برانڈ ویلیو 6.7 ارب ڈالر تھی جس سے بھارت کے مختلف ادارے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہسپانوی فٹبال لا لیگا کے پانچ کھلاڑی کورونا وائرس کا شکار

آئی پی ایل کے 2020 تک 5 سال کے ٹی وی حقوق کی مد میں بھارتی چینل اسٹار اسپورٹس نے 22 کروڑ ڈالر سے زائد ادا کیے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق صرف 2020 میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ حاصل کرنے کا ہدف بنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں اور فٹ بال کی مشہور لیگز بھی وقت پر شروع نہ ہوسکیں اور مقابلوں کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم رواں برس مارچ میں بھارت کا دورہ کرنے والی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے باعث اس سیریز کو بھی ملتوی کردیا گیا۔

کورونا وائرس کے باعث کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہونے پر دنیا کے کئی ممالک کے بورڈز نے اسٹاف کی تنخواہوں میں کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ نے اپنے اکثر ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیں جبکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے بھی تنخواہوں میں کمی کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں:کھیلوں کی تنظیموں کو 5 برس میں ایک ارب سے زائد گرانٹ دی گئی

بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی کے ہمراہ گزشتہ برس بورڈ کے مالی معاملات کا حصہ بننے والے ارون دھومل کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ کھلاڑیوں کے معاوضوں میں کٹوتی نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ہماری طرف سے آخری قدم ہوگا جو ہم کریں گے، اسی لیے ہم حتمی نقصان کے تعین کے لیے کام کررہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'جب ہم نقصان کا جائزہ لے پائیں گے تو پھر ہم معاوضوں میں کٹوتی کا سوچیں گے لیکن یہ ہمارا آخری قدم ہوگا'۔

ارون دھومل نے کہا کہ بی سی سی آئی کی قیادت مسابقتی کرکٹ کی بحالی کے لیے آئی سی سی سے مسلسل تبادلہ خیال کررہی ہے۔