سعودی عرب میں عید الفطر کی تعطیلات کے دوران کرفیو کا اعلان

اپ ڈیٹ 13 مئ 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

ریاض: سعودی عرب نے عید الفطر کی تعطیلات کے دوران 24 گھنٹے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کردیا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے کہا کہ عید الفطر کی 5 روزہ تعطیلات (23 مئی سے 27 مئی تک) ریاست بھر میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: سعودی عرب کا مساجد میں نماز تراویح کی ادائیگی پر پابندی کا اعلان

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ کے علاوہ رمضان کے اختتام تک ریاست کے تمام شہروں اور علاقوں میں لوگوں کو صبح 9 سے شام 5 بجے کے درمیان آزادانہ طور پر نقل مکانی کرنے کی اجازت ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ ان 8 گھنٹوں کے دوران لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ مکہ مکرمہ میں مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ لوگ سماجی فاصلے سے متعلق اقدامات پر عمل پیرا ہوں اور 5 یا زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ایک ہی دن میں ریکارڈ نئے کیسز

واضح رہے کہ سعودی حکام کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں میں 21 فیصد خواتین ہیں جبکہ 89 فیصد بالغ، 8 فیصد بچے اور 3 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اگر سعودی عرب کے حوالے سے بات کی جائے تو ملک میں 42 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

علاوہ ازیں حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 15 ہزار سے زائد مریض صحتیاب اور 264 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

محض دو روز قبل سعودی عرب میں ایک ہی دن میں ایک ہزار 912 ریکارڈ نئے کیسز سامنے آئے تھے۔

تصدیق شدہ نئے کیسوں میں سے 35 فیصد سعودی شہری تھے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے ٹیکس میں تین گنا اضافہ، رہائشی الاؤنس معطل کردیا

جس کے بعد وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العلی نے کہا تھا کہ ملک میں صحت کی صورتحال کا جائزہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ریاست وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں اپنی سفارشات بھیج نہیں دیتی۔

واضح رہے کہ 24 مارچ کو سعودی عرب میں وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔

کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیے وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا تھا کہ اس سال رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز تراویح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر لوگوں کو نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کورونا وائرس کی وبا کا اختتام نہیں ہوجاتا۔