ٹوئٹر ملازمین کو کورونا ختم ہونے کے بعد بھی گھروں سے کام کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 13 مئ 2020

ای میل

کمپنی کے ترجمان نے اس اعلان کی تصدیق کی — فوٹو: ٹوئٹر
کمپنی کے ترجمان نے اس اعلان کی تصدیق کی — فوٹو: ٹوئٹر

دنیا بھر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے رواں سال مارچ میں اپنے 4 ہزار 900 ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی تھی اور اب کمپنی نے ملازمین کے لیے ایک اور بڑا اعلان کردیا۔

موجودہ صورتحال کی وجہ سے کئی کمپنیوں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے اور اب ٹوئٹر کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملازمین یہ وبا ختم ہونے کے بعد بھی گھر سے کام کرسکتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے گارجین کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسی نے ایک ای میل کے ذریعے اعلان کیا کہ ملازمین کو ہمیشہ کے لیے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا خطرہ، ٹوئٹر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

ٹوئٹر کے ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹوئٹر ان چند پہلی کمپنیوں میں سے ایک ہے جنہوں نے کورونا وائرس کے باعث ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی تھی لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ ملازمین کو دفاتر واپس کب آنا ہوگا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’گزشتہ چند مہینوں میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے ملازمین گھروں سے کام کر سکتے ہیں، تو اگر کمپنی کے ملازمین نے چاہا کہ وہ آگے بھی گھروں سے ہی کام کریں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی‘۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر نے رواں سال 2 مارچ سے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے جبکہ 11 مارچ سے ملازمین کے لیے ایسا کرنا ضروری قرار دے دیا تھا‘۔

اپنے بیان میں کمپنی نے بتایا تھا کہ وہ ملازمین جو دفاتر آکر کام کرنے کے خواہشمند ہیں انہیں شاید ستمبر تک کا انتظار کرنا ہوگا۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ ’اب جب دفاتر واپس کھلیں گے تو سب کچھ کافی مختلف ہوگا، اب لوگ محتاط رہیں گے اور زیادہ خیال رکھیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 پر غلط معلومات کی روک تھام کیلئے ٹوئٹر کا نیا اقدام

یاد رہے کہ ٹوئٹر نے اپنے ملازمین کے تمام کاروباری سفر اور اپنی تمام تقریبات 2021 تک معطل کردیں، جبکہ ملازمین کو گھر میں باآسانی کام کرنے کے لیے سامان لینے کا اضافی معاوضہ بھی ادا کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ مقبول ترین ٹیکنالوجی کمپنیاں گوگل، فیس بک اور ایمازون کے ملازمین بھی موجودہ صورتحال کی وجہ سے گھروں سے ہی کام کر رہے ہیں۔

فیس بک اور گوگل نے اپنے ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کی پالیسی میں 7 ماہ کا مزید اضافہ کیا ہے جبکہ ایمازون نے اکتوبر تک ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی ہے۔