چین کی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین جتنی 'مؤثر' نئی دوا

اپ ڈیٹ 19 مئ 2020

ای میل

— اے ایف پی فوٹو
— اے ایف پی فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے چین میں ایک ایسی دوا پر کام ہورہا ہے جس کے بارے میں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ وہ اس وبا کو روکنے کی طاقت رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ وبا گزشتہ سال کے آخر میں چین سے پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب دنیا بھر تک پہنچ چکی ہے، جس کی روک تھام کے لیے علاج اور ویکسینز کی تلاش پر کام جاری ہے۔

چین کے معتبر پیکینگ یونیورسٹی میں ایسی دوا کی آزمائش ہورہی ہے جس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف بیمار افراد کی صحتیابی کا عمل تیز ہوتا ہے بلکہ وائرس کے خلاف مختصر المدت قوت مدافعت بھی فراہم کرتی ہے۔

یونیورسٹی کے بیجنگ ایڈوانسڈ انوویشن سینٹر فار جینومکس کے ڈائریکٹر سیونے شائی نے اے ایف پی کو بھی بتایا کہ جانوروں پر اس دوا کی آزمائش کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا 'ہم نے متاثرہ چوہے میں اینٹی باڈیز کو انجیکٹ کیا تو 5 دن بعد وائرل لوڈ کم ہوگیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوا بیماری کی روک تھام کرسکتی ہے'۔

اس دوا میں ایسی نیوٹرلائز اینٹی باڈیز کو استعمال کرتی ہے جو انسانی مدافعتی نظام خلیات کو وائرس سے بچانے کے لیے استعمال کرتا ہے، جو چینی تحقیقی ٹیم نے 60 صحتیاب افراد کے خون میں سے الگ کی تھیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل سیل میں شائع ہوئے اور بتایا گیا کہ اینٹی باڈیز کا استعمال کووڈ 19 کا ممکنہ علاج اور صحتیابی کے وقت کو کم کردیتا ہے۔

سیونے شائی نے کہا کہ ان کی ٹیم نے اینٹی باڈی کی تلاش کے لیے دن رات کام کیا 'ہماری مہارت امیونولوجی یا وائرلوجی کی بجائے سنگل سیل جینومکس میں ہے، جب ہم نے احساس کیا کہ اس طریقہ کار سے بھی موثر اینٹی باڈی کو تلاش کیا جاسکتا ہے، تو ہم پرجوش ہوگئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا رواں سال کسی وقت یا موسم سرما میں ممکنہ دوسری لہر سے قبل استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

انہوں نے مزید بتایا 'کلینیکل ٹرائل کی منصوبہ بندی جاری ہے اور یہ ٹرائل آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں ہوگا، کیونکہ چین میں کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ یہ نیوٹرلائز اینٹی باڈیز ایک مخصوص دوا کے روپ میں وبا کی روک تھام کردیں گی۔

چینی طبی حکام کے مطابق چین میں اس وقت کورونا وائرس کے خلاف 5 ویکسینز انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔

مگر عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایک ویکسین کی تیاری میں 12 سے 18 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے پلازما طریقہ علاج کے فوائد پر بھی بات کی جارہی ہے جس پر پاکستان میں بھی عملدرآمد ہورہا ہے۔

چین میں 700 سے زائد مریضوں پر پلازما تھراپی کو آزمایا گیا اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائج بہت زیادہ حوصلہ بخش رہے، مگر سیونے شائی کا کہنا تھا کہ پلازما کی سپلائی محدود ہوتی ہے، جبکہ ان کی دوا میں 14 نیوٹرلائز اینٹی باڈیز کو استعمال کیا جاتا ہے، جن کی بڑے پیمانے پر پروڈکشن جلد ہوسکتی ہے۔

اینٹی باڈیز کو دوا کی شکل میں استعمال کرنا کوئی نیا طریقہ کار نہیں، بلکہ اسے دیگر امراض جیسے ایچ آئی وی، ایبولا اور مرس کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔

ابھی ایبولا کے لیے تیار ہونے والی دوا ریمیڈیسیور کو کووڈ 19 کے لیے ابتدائی علاج میں مددگار سمجھا جارہا ہے، امریکا میں تحقیقی رپورٹس میں معلوم ہوا تھا کہ اس دوا کے استعمال سے کچھ مریضوں میں ریکوری کا وقت ایک تہائی کم ہوگیا، مگر اموات کی شرح میں فرق زیادہ نمایاں نہیں تھا۔

مگر چین میں تیار ہونے والی نئی دوا کچھ وقت تک وائرس سے تحفظ بھی فراہم کرتی ہے، یعنی کچھ عرصے تک لوگوں میں اس وائرس سے بیماری کا امکان نہیں ہوگا۔

تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ جس چوہے میں اس اینٹی باڈی کا استعمال ہوا، اسے وائرس سے انفیکٹ کیا گیا تو بھی چوہا وائرس سے محفوظ رہا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے طبی عملے کو مختصر المدت تحفظ فراہم کیا جاسکے گا اورر توقع ہے کہ اس دورانیے کو کئی ماہ تک توسیع دی جاسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری میں وقت اور وسائل کی زیادہ ضرورت ہے مگگر توقع ہے کہ اس نئی دوا سے تیز اور اور زیادہ موثر طریقے سے عالمی سطح پر کورونا وائرس کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔

سیونے شائی نے کہا 'ہم وبا کو ایک موثر دوا سے روکنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ بھی ویکسین کے بغیر'۔