کورونا وائرس: 3 صحافی جاں بحق اور 156 متاثر ہوچکے ہیں، پی ایف یو جے

اپ ڈیٹ 28 مئ 2020

ای میل

پاکستان میں کورونا وائرس 3 صحافیوں کی جان لے چکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں کورونا وائرس 3 صحافیوں کی جان لے چکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بتایا ہے کہ ملک میں اب تک کورونا وبا سے 3 صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ 156 متاثر ہیں۔

پی ایف یو جے کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے بعد سے کیمرا جرنلسٹس اور فوٹو جرنلسٹس سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

مذکورہ رپورٹ پی ایف یو جے کے کووڈ 19 ریسکیو کمیٹی کے سربراہ ذوالفقار علی مہتو نے مرتب کی ہے اور اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والے ان 3 صحافیوں میں سے ایک ملتان جبکہ 2 سکھر سے تھے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی کی رپورٹنگ کرنے والے تین صحافی کورونا کا شکار

اس کے علاوہ 69 صحافی صحتیاب ہوکر ہسپتال سے گھر لوٹ چکے ہیں جبکہ دیگر اس وقت قرنطینہ میں ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیصل آباد، بہاولپور اور رحیم یار خان میں کسی بھی ایک صحافی میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

تاہم لاہور میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے اور وہاں 84 صحافی اس وائرس سے متاثر ہوئے، اس کے بعد راولپنڈی اور اور اسلام آباد میں 24، کوئٹہ میں 17، پشاور میں 12، کراچی میں 9، سکھر میں 6، ملتان میں 5 اور گوجرانوالہ اور حیدرآباد میں 2، 2 کیس سامنے آئے۔

ذوالفقار علی مہتو کا کہنا تھا کہ پی ایف یو جے نے ملک بھر میں اور آزاد کشمیر میں پھیلے اپنے یونٹس سے ڈیٹا حاصل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 'آزاد جموں کشمیر میں میڈیا سے تعلق رکھنے والا ایک فرد متاثر ہوا اور وہ صحتیاب ہوگیا لیکن ابھی تک گلگت بلتستان کے علاقے میں صحافیوں میں کوئی کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا'۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے باعث سینئر صحافی ظفر رشید بھٹی کا انتقال

علاوہ ازیں حکومت پنجاب کی جانب سے جرنلسٹس سپورٹ فنڈ سے ہر متاثرہ صحافی کو ایک لاکھ روپے کی امداد کے اعلان کے تناظر میں پی ایف یو جے کی جانب سے متعلقہ حکام کو ڈیٹا بھیجا گیا ہے۔

پی ایف یو جے کی جانب سے سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کورونا سے متاثرہ صحافیوں کو کم از کم ایک لاکھ روپے فراہم کریں۔


یہ خبر 21 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی